سنن نسائی حدیث ۴۷۲ - فجر اور عصر کی فضیلت
فجر اور عصر کی نماز کی بڑی فضیلت
سنن نسائی : ۴۷۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۷۲
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قال : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قال : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، وَالْبَخْتَرِيُّ بْنُ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، كُلُّهُمْ سَمِعْوُهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَنْ يَلِجَ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " .
عمارہ بن رویبہ ثقفی روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہو گا“۔
سنن نسائی حدیث ۴۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نمازوں کی فضیلت بیان فرمائی جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے پڑھی جاتی ہیں۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق جو شخص یہ نمازیں پڑھے گا وہ آگ میں داخل نہیں ہوگا۔ عام طور پر اس سے فجر اور عصر کی نماز مراد لی جاتی ہے، کیونکہ فجر سورج نکلنے سے پہلے اور عصر سورج ڈوبنے سے پہلے ادا کی جاتی ہے۔ اس روایت میں فجر کی فضیلت، عصر کی فضیلت، نماز اور جہنم سے بچاؤ جیسے موضوعات بہت نمایاں ہیں۔ حدیث بندے کو یہ سمجھاتی ہے کہ دن کے دونوں کناروں کی نمازیں خاص توجہ چاہتی ہیں۔ الفاظ میں خوشخبری ہے، اس لیے بندے کو ان نمازوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج نکلنے سے پہلے کی نماز کی بڑی فضیلت ہے۔
- سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز کی بھی خاص اہمیت ہے۔
- فجر اور عصر کی پابندی پر حدیث میں خوشخبری آئی ہے۔
- نماز آگ سے بچنے کا سبب بن سکتی ہے۔
