سنن نسائی حدیث ۵۶ - دین میں آسانی کا سبق

تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو

سنن نسائیحدیث نمبر ۵۶

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ " .

ابوہریرہ روایت:

ایک دیہاتی اٹھا، اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو (پیشاب کر لینے دو) اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے بنا کر نہیں“۔

سنن نسائی حدیث ۵۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے بنا کر نہیں۔ یہ حدیث بہت جامع ہے۔ ایک طرف مسجد کی پاکی کا حکم ہے، دوسری طرف غلطی کرنے والے کے ساتھ نرمی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے صفائی کا عملی حل دیا اور لوگوں کو سختی سے بچایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی رہنمائی میں آسانی، حکمت اور پاکیزگی ایک ساتھ چلتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اصلاح میں آسانی کا انداز اپنانا چاہیے۔
  • مسجد کی نجاست کو پانی سے صاف کیا گیا۔
  • غلطی کرنے والے کو ایسے نہ روکا جائے کہ مسئلہ بڑھ جائے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے سختی کے بجائے نرمی اور حل سکھایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں