سنن نسائی حدیث ۶۱۴ - بھولی ہوئی نماز یاد آتے ہی پڑھو
بھولی ہوئی نماز کا حکم: یاد آتے ہی پڑھ لو
سنن نسائی : ۶۱۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۶۱۴
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز بھول جائے، جب یاد آ جائے تو اسے پڑھ لے“۔
سنن نسائی حدیث ۶۱۴ کا خلاصہ
یہ حدیث فوت شدہ نماز کے بارے میں بہت صاف اور آسان حکم بیان کرتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز بھول جائے، جب یاد آ جائے تو اسے پڑھ لے۔ اس میں نہ لمبی شرطیں ہیں، نہ سخت الفاظ؛ بلکہ ایک سیدھی رہنمائی ہے۔ اگر کوئی نماز واقعی بھول گیا ہو تو یاد آنے پر اسے ادا کرے۔ اس روایت کا مرکزی لفظ “جب یاد آئے” ہے۔ یہ بات قاری کو فوری عمل کی طرف لاتی ہے کہ یاد آنے کے بعد نماز کو مزید نہ ٹالا جائے۔ بھولی ہوئی نماز کی حدیث لوگوں میں بہت تلاش کی جاتی ہے، کیونکہ ہر مسلمان کبھی نہ کبھی بھول، مصروفیت یا غفلت کی کیفیت سے گزر سکتا ہے۔ حدیث کا متن اسی حد تک بتاتا ہے کہ یاد آنے پر نماز پڑھ لی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اگر نماز بھول جائے تو یاد آتے ہی اسے پڑھنا چاہیے۔
- حدیث کا حکم مختصر اور واضح ہے۔
- یاد آنے کے بعد نماز کو مزید مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔
- فوت شدہ نماز کے مسئلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی موجود ہے۔
