سنن نسائی حدیث ۸۲۱ - مردوں اور عورتوں کی صفیں
مردوں اور عورتوں کی بہترین صف کون سی ہے؟
سنن نسائی : ۸۲۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۲۱
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے، اور بد تر صف آخری صف ہے، اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ہے، اور ان کی سب سے بدتر صف پہلی صف ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۸۲۱ کا خلاصہ
یہ حدیث مردوں اور عورتوں کی صفوں کے فرق کو صاف بیان کرتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے، اور ان کی بدتر صف آخری صف ہے۔ پھر فرمایا کہ عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ہے، اور ان کی بدتر صف پہلی صف ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع نماز میں مردوں اور عورتوں کی صف بندی ہے۔ یہاں مردوں کے لیے اگلی صف کی رغبت بیان ہوئی، جبکہ عورتوں کے لیے آخری صف کو بہتر بتایا گیا۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے اس سے زائد تفصیل شامل کیے بغیر اصل پیغام یہی ہے کہ جماعت میں ہر ایک اپنی مناسب صف کا خیال رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مردوں کے لیے پہلی صف کو بہتر کہا گیا ہے۔
- مردوں کی آخری صف کو کم درجے والی صف بتایا گیا ہے۔
- عورتوں کے لیے آخری صف کو بہتر کہا گیا ہے۔
- نماز میں مردوں اور عورتوں کی صف بندی الگ انداز سے بیان ہوئی ہے۔
