سنن نسائی حدیث ۸۲۹ - امام سے پہلے سر اٹھانے کی وعید

امام سے پہلے سر اٹھانے کی سخت تنبیہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۸۲۹

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قال مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ " .

ابوہریرہ روایت:

محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لیتا ہے کیا وہ (اس بات سے) نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کا سر گدھے کے سر میں تبدیل نہ کر دے“۔

سنن نسائی حدیث ۸۲۹ کا خلاصہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو سخت انداز میں خبردار فرمایا جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کا سر گدھے کے سر میں بدل دے۔ حدیث کا مقصد نماز میں امام سے آگے بڑھنے کی سنگینی بتانا ہے۔ جماعت کی نماز میں مقتدی امام کے تابع ہوتا ہے، اس لیے رکوع، سجدہ اور سر اٹھانے میں امام سے پہلے نہیں ہونا چاہیے۔ امام سے پہلے سر اٹھانا صرف بے ترتیبی نہیں، بلکہ نماز کے ادب کے خلاف عمل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مقتدی کو امام سے پہلے رکوع یا سجدہ سے نہیں اٹھنا چاہیے۔
  • جماعت کی نماز میں امام کی پیروی لازم ہے۔
  • نماز میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اس عمل پر سخت تنبیہ فرمائی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں