سنن نسائی حدیث ۹۱۷ - سبع مثانی
سبعاً من المثانی کی تفسیر: سات لمبی سورتیں
سنن نسائی : ۹۱۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۱۷
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قال : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي سورة الحجر آية 87 قَالَ : " السَّبْعُ الطُّوَلُ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے` اللہ عزوجل کے قول: «سبعا من المثاني» کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد سات لمبی سورتیں ہیں۔
سنن نسائی حدیث ۹۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان سبعاً من المثانی کی تفسیر نقل ہوئی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد السبع الطول، یعنی سات لمبی سورتیں ہیں۔ روایت کا دائرہ تفسیر کا ہے، اس میں نماز کا کوئی عملی مسئلہ یا سورۃ فاتحہ کی تفصیل نہیں آئی۔ اس لیے اسے قرآن کی ایک تعبیر کی تشریح کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ سبع مثانی، سات لمبی سورتیں، ابن عباس کی تفسیر اور قرآنی الفاظ کی وضاحت اس حدیث کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔ یہ روایت قاری کو سکھاتی ہے کہ قرآن سمجھنے کے لیے صحابہ کے اقوال کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ جب صحابی کسی آیت کی تفسیر بیان کرے تو اسے ادب کے ساتھ پڑھنا چاہیے اور اپنی طرف سے غیر ضروری باتیں شامل نہیں کرنی چاہئیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سبعاً من المثانی کی تفسیر سات لمبی سورتوں سے کی گئی۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول قرآن فہمی میں رہنمائی دیتا ہے۔
- روایت میں جتنا بیان ہے، تفسیر کو اسی حد میں رکھا جائے۔
