سنن نسائی حدیث ۹۴۲ - قرآن سات حروف پر نازل ہوا

قرآن سات حروف پر نازل ہوا: قراءت کا اہم سبق

سنن نسائیحدیث نمبر ۹۴۲

أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُبَيٍّ قال : مَا حَاكَ فِي صَدْرِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا أَنِّي قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَهَا آخَرُ غَيْرَ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ : أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ : أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَقْرَأْتَنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : " نَعَمْ " وَقَالَ الْآخَرُ : أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : " نَعَمْ ، إِنَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَيَانِي فَقَعَدَ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِي وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِي فَقَالَ : جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ قَالَ : " مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ اسْتَزِدْهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ فَكُلُّ حَرْفٍ شَافٍ كَافٍ " .

ابی بن کعب روایت:

جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو میرے دل میں کوئی خلش پیدا نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ میں نے ایک آیت پڑھی، اور دوسرے شخص نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو میں نے کہا: مجھے یہ آیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے، تو دوسرے نے بھی کہا: مجھے بھی یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی پڑھائی ہے، بالآخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اور دوسرے شخص نے کہا: کیا آپ نے مجھے ایسے ایسے نہیں پڑھایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام دونوں میرے پاس آئے، جبرائیل میرے داہنے اور میکائیل میرے بائیں طرف بیٹھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ قرآن ایک حرف پر پڑھا کریں، تو میکائیل نے کہا: آپ اسے (اللہ سے) زیادہ کرا دیجئیے یہاں تک کہ وہ سات حرفوں تک پہنچے، (اور کہا کہ) ہر حرف شافی و کافی ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۹۴۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے دل میں آنے والی خلش کا ذکر ہے، جب انہوں نے ایک آیت کو ایک انداز میں پڑھا اور دوسرے شخص نے اسی آیت کو مختلف قراءت میں پڑھا۔ دونوں نے کہا کہ انہیں یہ قراءت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سکھائی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے دونوں کی بات کی تصدیق فرمائی اور بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے قرآن ایک حرف پر پڑھنے کا کہا، پھر میکائیل علیہ السلام کے کہنے پر زیادتی طلب کی گئی، یہاں تک کہ سات حروف تک پہنچا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ قرآن کی مشروع قراءات اللہ کی طرف سے آسانی ہیں، اور ہر حرف شافی و کافی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قراءت کے فرق پر جلدی اعتراض کرنے کے بجائے اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے دونوں قراءتوں کی تصدیق فرمائی، اس لیے ثابت شدہ قراءتوں کا احترام ضروری ہے۔
  • قرآن کے سات حروف امت کے لیے آسانی کا سبب بنائے گئے۔
  • دینی معاملے میں دل میں خلش ہو تو اسے نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کی طرف لوٹانا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں