سنن نسائی حدیث ۹۷۰ - ہر نماز میں قراءت کا اصول
ہر نماز میں قراءت کی حدیث
سنن نسائی : ۹۷۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۷۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ رَقَبَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قال : قال أَبُو هُرَيْرَةَ : " كُلُّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ فِيهَا فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَاهَا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ " .
عطاء روایت:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم بھی تم سے چھپا رہے ہیں۔
سنن نسائی حدیث ۹۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز کی قراءت کا ایک عام اصول بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہر نماز میں قراءت کی جاتی ہے۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو سامنے رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس قراءت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا، ہم بھی تمہیں سناتے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا، ہم بھی تم سے چھپاتے ہیں۔ یہاں “چھپانے” سے مراد وہی انداز ہے جو متن سے سمجھ آتا ہے: کچھ نمازوں میں قراءت سنائی جاتی تھی اور کچھ میں آہستہ رکھی جاتی تھی۔ حدیث میں کسی خاص نماز کا نام نہیں آیا، بلکہ عام بات کہی گئی ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ نماز میں قراءت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ہو، نہ اپنی پسند کے مطابق۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے عمل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر نماز میں قراءت کا ذکر کیا گیا ہے۔
- صحابی نے قراءت کے سنانے یا آہستہ رکھنے کو نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے سے جوڑا۔
- نماز کا طریقہ اپنی پسند سے نہیں، سنت سے لیا جاتا ہے۔
- حدیث میں عام اصول بیان ہوا ہے، کسی ایک نماز کی تخصیص نہیں۔
