سنن نسائی حدیث ۹۷۹ - ظہر، عصر اور فجر میں قراءت کا انداز
ظہر عصر اور فجر میں قراءت کی حدیث
سنن نسائی : ۹۷۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۷۹
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى فِي الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ " .
ابوقتادہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور ظہر میں پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت (پہلی کی بہ نسبت) مختصر کرتے تھے، نیز فجر میں بھی ایسا ہی کرتے۔
سنن نسائی حدیث ۹۷۹ کا خلاصہ
یہ روایت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نماز کی قراءت کے بارے میں ایک واضح بیان دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں فاتحۃ الکتاب اور سورتیں پڑھتے تھے۔ کبھی کبھار ایک آدھ آیت صحابہ کو سنائی دیتی تھی۔ ظہر میں پہلی رکعت کو لمبا اور دوسری کو نسبتاً مختصر کرتے تھے، اور فجر میں بھی اسی طرح کرتے تھے۔ اس حدیث میں ظہر، عصر اور فجر تینوں کا ذکر آیا ہے، مگر ہر ایک کی تفصیل ایک جیسی نہیں دی گئی۔ عصر کے بارے میں پہلی دو رکعتوں کی قراءت آئی ہے، جبکہ ظہر اور فجر میں پہلی رکعت کے لمبا ہونے کا خاص ذکر ہے۔ اس لیے اس روایت کو سمجھتے وقت الفاظ کے فرق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قراءت کو ترتیب کے ساتھ ادا کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ اور سورتوں کا ذکر ہے۔
- کبھی ایک آدھ آیت صحابہ کو سنائی دیتی تھی۔
- ظہر کی پہلی رکعت دوسری سے لمبی ہوتی تھی۔
- فجر میں بھی پہلی رکعت لمبی کرنے کا ذکر آیا ہے۔
