بیویوں کے درمیان غیرت
کل احادیث 4
بیویوں کے درمیان غیرت اور نبی کریم ﷺ کا حکیمانہ اسوہ حسنہ
ان مبارک احادیث میں ازواج مطہرات کے درمیان فطری غیرت (رشک) کے واقعات کا تذکرہ ہے، اور یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مواقع پر کتنا رحیمانہ اور حکیمانہ رویہ اختیار فرمایا۔ احادیث کے مطابق، جب امہات المؤمنین میں سے کسی نے محبت اور غیرت کے جوش میں دوسری بیوی کا بھیجا ہوا کھانا یا برتن توڑ دیا، تو آپ ﷺ نے غصہ کرنے کے بجائے مسکرا کر صحابہ سے فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق، آپ ﷺ نے انصاف کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹوٹے ہوئے برتن کے بدلے صحیح برتن اور کھانے کے بدلے ویسا ہی کھانا بطور کفارہ دلایا۔ یہ احادیث ہمیں گھریلو زندگی میں حسن سلوک سکھاتی ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فُلَيْتٍ ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ ، فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَفَّارَتِهِ ، فَقَالَ : " إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ " .
عائشہ روایت:
میں نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے جیسی کھانا بنانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے کو قابو میں نہ رکھ سکی اور میں نے برتن توڑ دیا پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے کفارے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”برتن کے جیسا برتن اور کھانے کے جیسا کھانا“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : الْتَمَسْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي شَعْرِهِ ، فَقَالَ : " قَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ " . فَقُلْتُ : أَمَا لَكَ شَيْطَانٌ ؟ فَقَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ , فَأَسْلَمَ " .
عائشہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفتیش کر رہی تھی چنانچہ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے بالوں میں داخل کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس تمہارا شیطان آ گیا ہے“۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ کا شیطان نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اللہ کی قسم، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے محفوظ رکھا ہے لہٰذا میں اس سے محفوظ رہتا ہوں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأَرْسَلَتْ أُخْرَى بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ ، فَضَرَبَتْ يَدَ الرَّسُولِ ، فَسَقَطَتِ الْقَصْعَةُ ، فَانْكَسَرَتْ , فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِسْرَتَيْنِ ، فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى ، فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ , وَيَقُولُ : " غَارَتْ أُمُّكُمْ كُلُوا " . فَأَكَلُوا ، فَأَمْسَكَ حَتَّى جَاءَتْ بِقَصْعَتِهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا , فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْهَا .
انس بن مالک روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک پیالہ کھانا بھیجا، پہلی بیوی نے (غصہ سے کھانا لانے والے) کے ہاتھ پر مارا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے (کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا)، تم لوگ کھانا کھاؤ۔ لوگوں نے کھایا، پھر قاصد کو آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ جن کے گھر میں آپ تھے اپنا پیالہ لائیں تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : " أَنَّهَا يَعْنِي أَتَتْ بِطَعَامٍ فِي صَحْفَةٍ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ، فَجَاءَتْ عَائِشَةُ مُتَّزِرَةً بِكِسَاءٍ , وَمَعَهَا فِهْرٌ , فَفَلَقَتْ بِهِ الصَّحْفَةَ , فَجَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ فِلْقَتَيِ الصَّحْفَةِ , وَيَقُولُ : " كُلُوا , غَارَتْ أُمُّكُمْ " , مَرَّتَيْنِ . ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَحْفَةَ عَائِشَةَ ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَأَعْطَى صَحْفَةَ أُمِّ سَلَمَةَ عَائِشَةَ " .
ام سلمہ روایت:
وہ ایک پیالے میں کھانا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس آئیں۔ اتنے میں عائشہ رضی اللہ عنہا ایک چادر پہنے ہوئے آئیں، ان کے پاس ایک پتھر تھا، جس سے انہوں نے وہ پیالا مار کر دو ٹکڑے کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے کے دونوں ٹکڑے جوڑنے لگے اور کہہ رہے تھے: تم لوگ کھاؤ، تمہاری ماں کو غیرت آ گئی، آپ نے دو بار کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا پیالا لیا اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بھجوا دیا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا پیالا عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔
