بچے کے نسب کے احکام

کل احادیث 38

بچے کے نسب کے احکام اور خاندانی وراثت سے متعلق مستند احادیث

ان احادیثِ مبارکہ میں بچے کے نسب کے احکام کے بارے میں ایک انتہائی اہم خاندانی اصول بیان کیا گیا ہے۔ احادیث کے مطابق، قبیلہ بنی فرازہ کے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بیوی کے ہاں کالے رنگ کے بچے کی ولادت پر شک کا اظہار کیا، یہاں تک کہ وہ بچے کے اپنے نسب سے انکار کا سوچ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی الجھن دور کرنے کے لیے اونٹوں کی ایک سادہ مثال دی کہ جس طرح سرخ اونٹوں کی نسل میں کسی پرانے خاندانی اثر کی وجہ سے کوئی خاکستری یا سیاہی مائل اونٹ پیدا ہو سکتا ہے، بالکل اسی طرح انسانوں میں بھی کسی دور کے خاندانی رگ کے اثر کی وجہ سے بچے کا رنگ والدین سے مختلف ہو سکتا ہے۔ اسلامی قوانین کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض رنگت کے فرق کی بنیاد پر اپنے بچے کے نسب کا انکار کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ اسلامی اصولوں کے مطابق، بغیر کسی پختہ ثبوت کے اپنی ہی اولاد کے نسب پر شک کرنا جائز نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ الْخَلِيلِ ، أَوْ ابْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : " أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ مِنْ ثَلَاثَةٍ ، نَحْوَهُ ، لَمْ يَذْكُرِ الْيَمَنَ ، وَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا قَوْلَهُ طِيبَا بِالْوَلَدِ " .

´خلیل یا ابن خلیل کہتے ہیں کہ` علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا مقدمہ لایا گیا جس نے تین آدمیوں سے صحبت کے بعد ایک لڑکا جنا تھا، آگے اسی طرح کی روایت ہے اس میں نہ تو انہوں نے یمن کا ذکر کیا ہے، نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور نہ (علی رضی اللہ عنہ کے) اس قول کا کہ خوشی سے تم دونوں لڑکے کو اسے (تیسرے کو) دے دو۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي جَاءَتْ بِوَلَدٍ أَسْوَدَ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا أَلْوَانُهَا ؟ " قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : " فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ " قَالَ : إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ، قَالَ : " فَأَنَّى تُرَاهُ ؟ " قَالَ : عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، قَالَ : " وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی فزارہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا بچہ جنا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، پوچھا: ”کون سے رنگ کے ہیں؟“ جواب دیا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کوئی خاکستری بھی ہے؟“ جواب دیا: ہاں، خاکی رنگ کا بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پھر یہ کہاں سے آ گیا؟“، بولا: شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں بھی ہو سکتا ہے (تمہارے لڑکے میں بھی) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو ۱؎“۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ،أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أُنْكِرُهُ . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .

ابوہریرہ روایت:

ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا لڑکا جنا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ، احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ " .

ابوہریرہ روایت:

جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کر دیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہو گا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا“۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وُلِدَ لِي غُلَامٌ أَسْوَدُ ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنَّى ذَلِكَ ؟ قَالَ : لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، قَالَ : فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے یہاں تو کالا کلوٹا بچہ پیدا ہوا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سرخ رنگ کے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے کہا کہ اپنی نسل کے کسی بہت پہلے کے اونٹ پر یہ پڑا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح تمہارا یہ لڑکا بھی اپنی نسل کے کسی دور کے رشتہ دار پر پڑا ہو گا۔

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , " أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ قَالَ : إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ، قَالَ : فَأَنَّى تَرَى ، أَتَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " .

ابوہریرہ روایت:

بنی فرازہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”کس رنگ کے ہیں؟“، اس نے کہا لال رنگ (کے ہیں)، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: (جی ہاں) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم کیا سمجھتے ہو یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا ہو سکتا ہے کسی رگ نے یہ رنگ کشید کیا ہو۔ آپ نے فرمایا: ”(یہی بات یہاں بھی سمجھو) ہو سکتا ہے کسی رگ نے اس رنگ کو کھینچا ہو“ ۲؎۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ ، وَهُوَ يُرِيدُ الِانْتِفَاءَ مِنْهُ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ قَالَ : فِيهَا ذَوْدُ وُرْقٍ ، قَالَ : فَمَا ذَاكَ تُرَى ؟ قَالَ : لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهَا عِرْقٌ ، قَالَ : فَلَعَلَّ هَذَا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ , قَالَ : فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ " .

ابوہریرہ روایت:

قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: سرخ، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے؟“ اس نے کہا (جی ہاں) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا: کسی رگ نے اسے کھینچا ہو گا۔ آپ نے فرمایا: ”(یہ بھی ایسا ہی سمجھ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہو گا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی۔

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ حِمْصِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي وُلِدَ لِي غُلَامٌ أَسْوَدُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : مَا أَدْرِي ؟ قَالَ : فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : فَهَلْ فِيهَا جَمَلٌ أَوْرَقُ ؟ قَالَ : فِيهَا إِبِلٌ وُرْقٌ ، قَالَ : فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : مَا أَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، قَالَ : وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، فَمِنْ أَجْلِهِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا لَا يَجُوزُ لِرَجُلٍ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْ وَلَدٍ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، إِلَّا أَنْ يَزْعُمَ أَنَّهُ رَأَى فَاحِشَةً " .

ابوہریرہ روایت:

ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ؟“، اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“، اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا کوئی ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے؟“، اس نے کہا: ان میں خاکی رنگ کے بھی اونٹ ہیں۔آپ نے فرمایا: ”یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا؟“، اس نے کہا: میں نہیں جانتا، اللہ کے رسول! ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کشید کیا ہو (یعنی یہ نسلی کشش کا نتیجہ ہو اور نسل میں کوئی کالے رنگ کا ہو)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ بھی ہو سکتا ہے کسی رگ کی کشش کے نتیجہ میں کالے رنگ کا پیدا ہوا ہو“۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دے جب تک کہ وہ اس کا دعویٰ نہ کرے کہ اس نے اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ شُعَيْبٌ قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ رَجُلًا لَيْسَ مِنْهُمْ ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ، وَلَا يُدْخِلُهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ، احْتَجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .

ابوہریرہ روایت:

´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت کسی قوم (خاندان و قبیلے) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم (خاندان و قبیلے) کا نہ ہو (یعنی زنا و بدکاری کرے) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور (ایسے ہی) جو شخص اپنے بیٹے کا (کسی بھی سبب سے) انکار کر دے اور دیکھ رہا (اور سمجھ بوجھ رہا) ہو (کہ وہ بیٹا اسی کا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کر لے گا ۱؎ اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اگلے و پچھلے سبھی لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا“۔

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ فراش والے کا ہے (یعنی جس کی بیوی ہو اس کا مانا جائے گا) اور زنا کار کے لیے پتھر ہے“۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں