خاندان کو نصیحت
کل احادیث 7
خاندان کو نصیحت اور رشتہ داروں کی اصلاح سے متعلق احادیث
اسلام میں اپنے قریبی رشتہ داروں اور خاندان کو نصیحت کرنے اور انہیں آخرت کی فکر دلانے کی شدید تاکید کی گئی ہے۔ فراہم کردہ احادیث کے مطابق، جب قرآنی آیت 'اور اپنے قریبی ناطے والوں کو ڈراؤ' نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے تمام قریبی خاندانوں، بشمول بنی عبد مناف، بنی ہاشم، اور بنی عبدالمطلب کو پکارا اور انہیں عام و خاص طور پر نصیحت فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ اور لختِ جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تک سے واضح طور پر فرمایا کہ وہ اپنی جانوں کو نیک اعمال کے ذریعے اللہ کے عذاب سے بچا لیں، کیونکہ آخرت میں ذاتی اعمال ہی کام آئیں گے اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ احادیث کے مطابق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان کے حقوق کی پاسداری اور دنیاوی قرابت داری کو نبھانے کا عزم تو ظاہر کیا لیکن نجات کے لیے ایمان اور عملِ صالح کو ہی لازمی قرار دیا۔ اس کے علاوہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیاروں کی دنیاوی و مالی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اخروی بھلائی کے لیے بھی بہترین مشورے دیے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ کو اپنا باغ اپنے ہی قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کرنے کی نصیحت فرمائی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " . تَابَعَهُ أَصْبَغُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ .
ابوہریرہ روایت:
جب (سورۃ الشعراء کی) یہ آیت اللہ تعالیٰ نے اتاری «وأنذر عشيرتك الأقربين» اور اپنے نزدیک ناطے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش کے لوگو! یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ تم لوگ اپنی اپنی جانوں کو (نیک اعمال کے بدل) مول لے لو (بچا لو) میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا (یعنی اس کی مرضی کے خلاف میں کچھ نہیں کر سکوں گا) عبد مناف کے بیٹو! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ عباس عبدالمطلب کے بیٹے! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ صفیہ میری پھوپھی! اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ فاطمہ! بیٹی تو چاہے میرا مال مانگ لے لیکن اللہ کے سامنے تیرے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ابوالیمان کے ساتھ حدیث کو اصبغ نے بھی عبداللہ بن وہب سے ‘ انہوں نے یونس سے ‘ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا ، فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ ، يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ ، يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ ، وَيَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، وَيَا بَنِي هَاشِمٍ ، وَيَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، وَيَا فَاطِمَةُ ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ ، إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا ، سَأَبُلُّهَا بِبِلَالِهَا " .
ابوہریرہ روایت:
جب آیت: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا چنانچہ قریش سبھی لوگ اکٹھا ہو گئے، تو آپ نے عام و خاص سبھوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”اے بنی کعب بن لوئی! اے بنی مرہ بن کعب! اے بنی عبد شمس! اے بنی عبد مناف! اے بنی ہاشم اور اے بنی عبدالمطلب! تم سب اپنے آپ کو آگ سے بچا لو اور اے فاطمہ (فاطمہ بنت محمد) تم اپنے آپ کو آگ سے بچا لو کیونکہ میں اللہ کے عذاب کے سامنے تمہارے کچھ بھی کام نہیں آ سکتا سوائے اس کے کہ ہمارا تم سے رشتہ داری ہے جو میں (دنیا میں) اس کی تری سے تر رکھوں گا“۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَالَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، سَلِينِي مَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آیت: «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”اے قریش کی جماعت! تم! اپنی جانوں کو اللہ سے (اس کی اطاعت کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے کچھ بھی نجات نہیں دلا سکتا، اے صفیہ! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی) میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے فاطمہ بنت محمد! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہو مانگ لو، لیکن (یہ جان لو کہ) میں اللہ کے پاس تمہارے کچھ بھی کام نہ آؤں گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة , قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا فَاطِمَةُ ، سَلِينِي مَا شِئْتِ ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " .
ابوہریرہ روایت:
جب آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے محمد! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے قریش کے لوگو! اپنی جانوں کو اللہ سے (اس کی اطاعت کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبد مناف! میں اللہ کے یہاں تمہارے کچھ بھی کام نہ آ سکوں گا، اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کے یہاں میں تمہارے بھی کچھ کام نہ آ سکوں گا، اے صفیہ! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی)، میں اللہ کے یہاں تمہیں بھی کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، اے فاطمہ! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہے مجھ سے مانگو، لیکن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا فَاطِمَةُ ابْنَةَ مُحَمَّدٍ ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ " .
عائشہ روایت:
جب آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ بنت محمد! اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اور اے بنی عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو ۱؎“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ " أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ ، وَبَنِي عَمِّهِ " . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي يَا بَنِي فِهْرٍ ، يَا بَنِي عَدِيٍّ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ . وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ سے فرمایا (جب انہوں نے اپنا باغ بیرحاء اللہ کی راہ میں دینا چاہا) میں مناسب سمجھتا ہوں تو یہ باغ اپنے عزیزوں کو دیدے۔ ابوطلحہ نے کہا بہت خوب ایسا ہی کروں گا۔ پھر ابوطلحہ نے وہ باغ اپنے عزیزوں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جب (سورۃ الشعراء کی) یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين» اور اپنے قریب کے ناطے والوں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے خاندانوں بنی فہر ‘ بنی عدی کو پکارنے لگے (ان کو ڈرایا) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جب یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے قریش کے لوگو! (اللہ سے ڈرو)۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ ، إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ ، إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، وَلَكِنْ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ رَحِمٌ ، أَنَا بَالُّهَا بِبِلَالِهَا " .
موسیٰ بن طلحہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی عبد مناف! اپنی جانوں کو اپنے رب سے (اپنے اعمال حسنہ کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لینے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا، اے عبدالمطلب کی اولاد! اپنی جانوں کو اپنے رب سے (اپنے نیک اعمال کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لینے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا، البتہ ہمارے اور تمہارے درمیان قرابت داری ہے، تو میں اس کی تری اسے تروتازہ اور زندہ رکھنے کی کوشش کروں گا“۔
