جانوروں کے حقوق

کل احادیث 55

اسلام میں جانوروں کے حقوق اور احادیثِ نبوی کا پیغام

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف انسانوں بلکہ بے زبان جانوروں کے حقوق کا بھی ضامن ہے۔ ان احادیث مبارکہ میں جانوروں پر ظلم و ستم کی سخت ممانعت کی گئی ہے اور انسانوں کو ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عبرت انگیز واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک عورت کو صرف اس وجہ سے جہنم کے عذاب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس نے ایک بلی کو قید کر دیا تھا۔ اس نے نہ تو خود اس بلی کو کھانا پانی دیا اور نہ ہی اسے آزاد کیا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنی بھوک مٹا سکے۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ بے زبان مخلوق کو بلاوجہ تکلیف دینا اور انہیں بنیادی ضروریات سے محروم رکھنا شدید گناہ ہے، جو انسان کی ہلاکت اور آخرت میں نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا، ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی اس بے زبان مخلوق پر رحم کرے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي يَحْيَى رَابِطٌ دَجَاجَةً يَرْمِيهَا ، فَمَشَى إِلَيْهَا ابْنُ عُمَرَ حَتَّى حَلَّهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا ، وَبِالْغُلَامِ مَعَهُ ، فَقَالَ : ازْجُرُوا غُلَامَكُمْ عَنْ أَنْ يَصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ لِلْقَتْلِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهِيمَةٌ أَوْ غَيْرُهَا لِلْقَتْلِ " .

´ہم سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسحاق بن سعید بن عمرو نے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ` وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ وہ یحییٰ بن سعید کے یہاں تشریف لے گئے۔ یحییٰ کی اولاد میں ایک بچہ ایک مرغی باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرغی کے پاس گئے اور اسے کھول لیا پھر مرغی کو اور بچے کو اپنے ساتھ لائے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے بچہ کو منع کر دو کہ اس جانور کو باندھ کر نہ مارے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے کسی جنگلی جانور یا کسی بھی جانور کو باندھ کر جان سے مارنے سے منع فرمایا ہے۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبد : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قال : قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ،

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الصُّرَدِ ، وَالضِّفْدَعِ ، وَالنَّمْلَةِ ، وَالْهُدْهُدِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹورا (ایک چھوٹا سا پرندہ)، مینڈک، چیونٹی اور ہُد ہُد کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيَّانِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَرَصَتْهُ نَمْلَةٌ ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ ، فِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک نبی کو چیونٹی نے کاٹ لیا، تو انہوں نے چیونٹیوں کے گھر جلا دینے کا حکم دیا، تو وہ جلا دیئے گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس وحی نازل کی کہ آپ نے ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے امتوں (مخلوقات) میں سے ایک امت (مخلوق) کو تباہ کر دیا، جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی تھی“؟۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً ، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا أَدْنَى مِنَ الْأُولَى ، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً ، أَدْنَى مِنَ الَّذِي ذَكَرَهُ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چھپکلی ایک ہی وار میں مار ڈالے تو اس کے لیے اتنی اور اتنی نیکیاں ہیں، اور جس نے دوسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی (پہلے سے کم) نیکیاں ہیں، اور جس نے تیسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی (دوسرے سے کم) ہیں۔

وحدثني نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ .

ابوہریرہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کے ہم معنی روایت کرتے ہیں۔

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ ، لَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عورت کو عذاب ہوا ایک بلی کی وجہ سے جس کو اس نے نہ کھانا دیا نہ پانی نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے جانور کھاتی۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي ، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً ، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ ، فَسَقَى الْكَلْبَ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَغَفَرَ لَهُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا ، فَقَالَ : " فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص راہ میں جا رہا تھا اس کو بہت پیاس لگی، ایک کنواں ملا، وہ اس میں اترا اور پانی پیا، پھر نکلا تو ایک کتے کو دیکھا اپنی زبان نکالے ہوئے ہانپتا ہے (پیاس کی وجہ سے) اور گیلی مٹی کھا رہا تھا۔ وہ شخص بولا: اس کتے کا حال پیاس کے مارے ویسا ہی ہو گا جیسا میرا حال تھا، پھر وہ کنوئیں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھرا اور موزہ منہ میں لے کر اوپر چڑھا وہ پانی کتے کو پلایا اللہ تعالیٰ نے اس کی نیکی کو قبول کیا اور اس کو بخش دیا۔لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم کو ان جانوروں کے کھلانے اور پلانے میں بھی ثواب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر تازے جگر والے میں ثواب ہے۔“ (یعنی ہر حیوان بدلے میں کے جو موذی نہ ہو)۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ ، فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا فَغُفِرَ لَهَا " .

ابوہریرہ روایت:

ایک بدکار عورت نے ایک کتے کو دیکھا گرمی کے دنوں میں جو کنوئیں کے گرد پھر رہا تھا اور اپنی زبان باہر نکال دی تھی پیاس کی وجہ سے اس عورت نے اپنے موزے سے پانی نکالا اور اس کتے کو پلایا اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں