گفتگو کے آداب
کل احادیث 7
اسلام میں گفتگو کے آداب اور الفاظ کی اہمیت پر احادیثِ مبارکہ
ان احادیثِ مبارکہ میں گفتگو کے آداب اور روزمرہ زندگی میں الفاظ کے درست استعمال کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو ہدایت فرمائی کہ وہ انگور کے درخت یا پھل کے لیے 'کرم' کا لفظ استعمال نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ لفظ 'کرم' (جس کا مطلب بزرگی اور شرافت ہے) کا حقیقی حقدار ایک مومن کا دل یا ایک سچا مسلمان شخص ہے۔ ان احادیث سے یہ خوبصورت اخلاقی سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنی گفتگو میں ایسے الفاظ چننے چاہئیں جو معاشرے میں انسانوں کی قدر و منزلت بڑھائیں اور فضول یا غیر مناسب اصطلاحات سے پرہیز کیا جائے، کیونکہ الفاظ انسانی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَسُبُّ أَحَدُكُمُ الدَّهْرَ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ ، وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ : الْكَرْمَ ، فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت برا کہے کوئی تم میں سے زمانے کو کیونکہ اللہ ہی کہ ہاتھ میں زمانہ ہے اور سب کچھ اللہ ہی کرتا ہے پھر زمانہ کو برا کہنا معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کو برا کہنا ہے اور کوئی تم میں سے انگور کر «كرم» نہ کہے اس لیے کہ «كرم» مسلمان آدمی کو کہتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُولُوا : كَرْمٌ ، فَإِنَّ الْكَرْمَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مت کہو «كرم» (انگور) کو اس لیے کہ «كرم» مسلمان کا دل ہے۔“
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ : الْكَرْمَ ، فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگور کو «كرم» نہ کہو اس لیے کہ «كرم» مسلمان کو کہتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : الْكَرْمُ ، فَإِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے انگور کر «كرم» نہ کہے کیونکہ «كرم» مومن کا دل ہے۔“
وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ : الْكَرْمَ ، إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے انگور کو «كرم» نہ کہے «كرم» تو مسلمان آدمی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُولُوا : الْكَرْمُ ، وَلَكِنْ قُولُوا : الْحَبْلَةُ يَعْنِي الْعِنَبَ .
وائل بن حجر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت کہو «كرم» بلکہ «حبله» کہو (یعنی انگور کو)۔“
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُولُوا : الْكَرْمُ ، وَلَكِنْ قُولُوا : الْعِنَبُ وَالْحَبْلَةُ " .
وائل بن حجر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «كرم» مت کہو بلکہ عنب یا «حبله» کہو (انگور کو)“۔
