قرض کی وصولی

کل احادیث 6

قرض کی وصولی اور صاحبِ حق کے حقوق: احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

اسلامی تعلیمات میں مالی معاملات کی شفافیت اور حقوق العباد کی ادائیگی پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ان احادیثِ مبارکہ کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے قرض خواہوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اپنے حق یا قرض کا مطالبہ ہمیشہ شریفانہ اور نرم انداز سے کریں، خواہ انہیں ان کا پورا حق ملے یا کم۔ احادیث سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ قرض خواہ کو اپنے مقروض پر ایک اخلاقی برتری حاصل ہوتی ہے، اسی لیے جب ایک شخص نے آپ ﷺ سے سخت لہجے میں قرض کا مطالبہ کیا تو آپ ﷺ نے صحابہ کو اسے روکنے سے منع فرمایا اور واضح کیا کہ حقدار کی طرفداری کرنی چاہیے۔ آپ ﷺ نے قرض لے کر اس اعرابی کا حق پورا ادا کیا جس پر اس نے آپ ﷺ کو دعا دی۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ وہ قوم کبھی پاکیزہ یا کامیاب نہیں ہو سکتی جہاں کمزور انسان بغیر کسی پریشانی اور خوف کے اپنا شرعی حق حاصل نہ کر سکے۔ اس کے ساتھ ہی، ضرورت پڑنے پر قرض دار کے ساتھ رہ کر تقاضا کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي ، فَقَالَ لِي : " الْزَمْهُ " ، ثُمَّ مَرَّ بِي آخِرَ النَّهَارِ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ " .

´ہرماس بن حبیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے قرض دار کو لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پیچھے لگے رہو“، پھر آپ شام کو میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اے بنی تمیم کے بھائی! تمہارا قیدی کہاں ہے“۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِصَاحِبِ الْحَقِّ خُذْ حَقَّكَ فِي عَفَافٍ ، وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب حق سے فرمایا: ”شریفانہ انداز سے اپنا حق لو خواہ پورا ملے یا نہ ملے“۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يَطْلُبُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَيْنٍ أَوْ بِحَقٍّ ، فَتَكَلَّمَ بِبَعْضِ الْكَلَامِ فَهَمَّ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْ ، إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يَقْضِيَهُ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا قرض یا حق مانگنے آیا، اور کچھ (نامناسب) الفاظ کہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی طرف بڑھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، رہنے دو، قرض خواہ کو مقروض پر غلبہ اور برتری رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے“۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَظُنُّهُ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ حَتَّى قَالَ لَهُ : أُحَرِّجُ عَلَيْكَ إِلَّا قَضَيْتَنِي . فَانْتَهَرَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوا : وَيْحَكَ ! تَدْرِي مَنْ تُكَلِّمُ ؟ قَالَ : إِنِّي أَطْلُبُ حَقِّي . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَّا مَعَ صَاحِبِ الْحَقِّ كُنْتُمْ " ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، فَقَالَ لَهَا : " إِنْ كَانَ عِنْدَكِ تَمْرٌ فَأَقْرِضِينَا حَتَّى يَأْتِيَنَا تَمْرُنَا فَنَقْضِيَكِ " ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَأَقْرَضَتْهُ . فَقَضَى الْأَعْرَابِيَّ وَأَطْعَمَهُ ، فَقَالَ : أَوْفَيْتَ أَوْفَى اللَّهُ لَكَ ، فَقَالَ : " أُولَئِكَ خِيَارُ النَّاسِ ، إِنَّهُ لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ فِيهَا حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ " .

ابو سعید خدری روایت:

ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سختی سے مطالبہ کیا، اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کو تنگ کروں گا، نہیں تو میرا قرض ادا کر دیجئیے (یہ سن کر) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو جھڑکا اور کہا: افسوس ہے تجھ پر، تجھے معلوم ہے کہ تو کس سے بات کر رہا ہے؟وہ بولا: میں اپنے حق کا مطالبہ کر رہا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام سے) فرمایا: ”تم صاحب حق کی طرف داری کیوں نہیں کرتے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ بنت قیس کے پاس ایک آدمی بھیجا، اور ان کو کہلوایا کہ ”اگر تمہارے پاس کھجوریں ہوں تو ہمیں اتنی مدت تک کے لیے قرض دے دو کہ ہماری کھجوریں آ جائیں، تو ہم تمہیں ادا کر دیں گے“، انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! میرے پاس ہے، اور انہوں نے آپ کو قرض دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعرابی کا قرض ادا کر دیا، اور اس کو کھانا بھی کھلایا، وہ بولا: آپ نے میرا حق پورا ادا کر دیا، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی بہتر لوگ ہیں، اور کبھی وہ امت پاک اور مقدس نہ ہو گی جس میں کمزور بغیر پریشان ہوئے اپنا حق نہ لے سکے“۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا فَنَادَى كَعْبًا فَقَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " دَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا " وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّطْرِ ، فَقَالَ : قَدْ فَعَلْتُ ، قَالَ : " قُمْ فَاقْضِهِ " .

کعب بن مالک روایت:

انہوں نے مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں اونچی ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو آپ گھر سے نکل کر ان کے پاس آئے، اور کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی، تو وہ بولے: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو“، اور اپنے ہاتھ سے آدھے کا اشارہ کیا، تو وہ بولے: میں نے چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اٹھو، جاؤ ان کا قرض ادا کرو“۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْهُ فِي عَفَافٍ وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ " .

ابن عمر اور عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی حق کا مطالبہ کرے تو شریفانہ طور پر کرے، خواہ وہ حق پورا پا سکے یا نہ پا سکے“۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں