غزوہ بدر
کل احادیث 5
غزوہ بدر کے متعلق مستند احادیث اور اہم واقعات
غزوہ بدر اسلام کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم معرکہ ہے جس کا ذکر مستند احادیث میں تفصیل کے ساتھ ملتا ہے۔ احادیث کے مطابق، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو سفیان کے قافلے کی آمد کی خبر ملی تو آپ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ اس موقع پر انصار کے رئیس سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بے مثال وفاداری اور جاں نثاری کا ثبوت دیا۔ میدانِ بدر میں مسلمانوں کی کل تعداد طالوت کے ساتھیوں کے برابر یعنی 313 تھی۔ اس جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم معجزات بھی ظاہر ہوئے، جہاں آپ نے پہلے ہی مشرکین کے مرنے کی جگہوں کی نشاندہی فرما دی تھی جو بالکل سچ ثابت ہوئی۔ اسی معرکے میں اسلام کے بڑے دشمن ابو جہل کو عفراء کے بیٹوں نے شدید زخمی کیا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں وہ اپنے انجام کو پہنچا۔ یہ احادیث ہمیں صحابہ کے ایمان اور حق کی فتح کی واضح تصویر دکھاتی ہیں۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَعْلَمُ لِي مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ ؟ " بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَقَوْلِ أَبِي مِجْلَزٍ كَمَا ذَكَرَهُ إِسْمَاعِيلُ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ ؟ ، فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَكَ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ، فَقَالَ : آنْتَ أَبُو جَهْلٍ ؟ ، فَقَالَ : وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوَ قَالَ قَتَلَهُ قَوْمُهُ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِي " ،
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون خبر لاتا ہے ابوجہل کی۔“ یہ سن کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ گئے دیکھا تو عفراء کے بیٹوں نے اسے ایسا مارا کہ ٹھنڈا ہو گیا ہے (یعنی موت کے قریب ہے) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی داڑھی پکڑی اور کہا: تو ابوجہل ہے وہ بولا: کیا تم زیادہ ہو اس شخص سے جس کو تم نے مارا ہے (یعنی مجھ سے زیادہ قریش میں کوئی بڑے درجہ کا نہیں) یا اس کی قوم نے مارا ہے (مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے مجھے قتل کیا تو میری کوئی ذلت نہیں) ابومجلز نے کہا: ابوجہل نے کہا: کاش! کسان کے سوا اور کوئی مجھے مارتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَاوَرَ حِينَ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، فَقَالَ : إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا ، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا ، قَالَ : فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا بَدْرًا ، وَوَرَدَتْ عَلَيْهِمْ رَوَايَا قُرَيْشٍ وَفِيهِمْ غُلَامٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ ، فَأَخَذُوهُ فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ ، فَيَقُولُ : مَا لِي عِلْمٌ بِأَبِي سُفْيَانَ ، وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ ، وَعُتْبَةُ ، وَشَيْبَةُ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ : ضَرَبُوهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ أَنَا أُخْبِرُكُمْ هَذَا أَبُو سُفْيَانَ ، فَإِذَا تَرَكُوهُ فَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ : مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ ، وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ ، وَعُتْبَةُ ، وَشَيْبَةُ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فِي النَّاسِ ، فَإِذَا قَالَ هَذَا أَيْضًا : ضَرَبُوهُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ انْصَرَفَ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَضْرِبُوهُ إِذَا صَدَقَكُمْ وَتَتْرُكُوهُ إِذَا كَذَبَكُمْ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ ، قَالَ : وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ هَهُنَا هَهُنَا ، قَالَ : فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوسفیان کے آنے کی خبر پہنچی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی۔ آپ نے جواب نہ دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب نہ ہوئے۔آخر سعد بن عبادہ (انصار کی رئیس اٹھے) اور انہوں نے کہا: آپ ہم سے پوچھتے ہیں یا رسول اللہ! قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر آپ ہم کو حکم کریں کہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں تو ہم ضرور ڈال دیں اور اگر آپ حکم کریں کہ ہم گھوڑوں کو بھگا دیں برک الغماد تک (جو ایک مقام ہے بہت دور مکہ سے پرے) البتہ ہم ضرور بھگا دیں (یعنی ہم ہر طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تابع ہیں گو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عہد نہ کیا ہو آفریں ہے انصار کی جاں نثاری پر) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا اور وہ چلے۔ یہاں تک کہ بدر میں اترے۔وہاں قریش کے پانی پلانے والے ملے، ان میں ایک کالا غلام بھی تھا بنی حجاج کا۔ صحابہ نے اس کو پکڑا اور اس سے ابوسفیان اور ابوسفیان کے ساتھیوں کا حال پوچھنے لگے، وہ کہتا تھا میں ابو سفیان کا حال نہیں جانتا البتہ ابوجہل اور عتبہ اور شیبہ اور امیہ بن خلف تو یہ موجود ہیں۔جب وہ یہ کہتا تو پھر اس کو مارتے جب وہ یہ کہتا اچھا اچھا میں ابوسفیان کا حال بتاتا ہوں تو اس کو چھوڑ دیتے، پھر اس سے پوچھتے وہ یہی کہتا میں ابوسفیان کا حال نہیں جانتا البتہ ابوجہل اور عتبہ اور شیبہ اور امیہ بن خلف تو لوگوں میں موجود ہیں، پھر اس کو مارتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کھڑے ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو نماز سے فارغ ہوئے اور فرمایا: ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب وہ تم سے سچ بولتا ہے تو تم اس کو مارتے ہو اور جب جھوٹ بولتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو۔“ (یہ ایک معجزہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فلاں کافر کے مرنے کی جگہ ہے۔“ اور ہاتھ زمین پر رکھا اس جگہ (اور یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے) راوی نے کہا: پھر جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ رکھا تھا اس سے ذرا بھی فرق نہ ہوا اور ہر ایک کافر اسی جگہ گرا، (یہ دوسرا معجزہ ہوا)۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ح ، وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي ، اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ ، فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ ، وَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ سورة الأنفال آية 9 فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلَائِكَةِ ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ : فَحَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ ، فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ ، يَقُولُ : أَقْدِمْ حَيْزُومُ ، فَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ ، فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًا ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ السَّوْطِ ، فَاخْضَرَّ ذَلِكَ أَجْمَعُ ، فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَحَدَّثَ بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : صَدَقْتَ ، ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ ، فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَى ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ : مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى ؟ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ ، فِدْيَةً فَتَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ ، قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنِّي مِنْ فُلَانٍ نَسِيبًا لِعُمَرَ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا ، فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْكِيَانِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ سورة الأنفال آية 67 إِلَى قَوْلِهِ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالا طَيِّبًا سورة الأنفال آية 69 فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ " .
عمر بن خطاب روایت:
جس دن بدر کی لڑائی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کو دیکھا وہ ایک ہزار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تین سو انیس تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کو دیکھا اور قبلہ کی طرف منہ کیا، پھر دونوں ہاتھ پھیلائے، اور پکار کر دعا کرنے لگے اپنے پروردگار سے۔ (اس حدیث سے یہ نکلا کہ دعا میں قبلہ کی طرف منہ کرنا اور ہاتھ پھیلانا مستحب ہے) «اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِى مَا وَعَدْتَنِى اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِى اللَّهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ مِنْ أَهْلِ الإِسْلاَمِ لاَ تُعْبَدْ فِى الأَرْضِ» ”یااللہ! پورا کر جو تو نے وعدہ کیا مجھ سے، یااللہ! دے مجھ کو جو وعدہ کیا تو نے مجھ سے، یااللہ! اگر تو تباہ کر دے گا اس جماعت کو تو پھر نہ پوجا جائے گا تو زمین میں۔“ (بلکہ جھاڑ پہاڑ پوجے جائیں گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دعا کرتے رہے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے یہاں تک کہ آپ کی چادر مبارک مونڈھوں سے اتر گئی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مونڈھے پر ڈال دی، پھر پیچھے سے ہٹ گئے اور فرمایا اے نبی اللہ تعالیٰ کے بس، آپ کی اتنی دعا کافی ہے اب اللہ تعالیٰ پورا کرے گا وہ وعدہ جو کیا آپ سے۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ مُرْدِفِينَ» (۸-الأنفال:۹) ”یعنی جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے اور اس نے قبول کی دعا تمہاری اور فرمایا میں تمہاری مدد کروں گا ایک ہزار فرشتے لگاتار سے،“پھر اللہ تعالیٰ نے مدد کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرشتوں سے۔ ابوزمیل نے کہا: مجھ سے حدیث بیان کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ اس روز ایک مسلمان ایک کافر کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس کے آگے تھا اتنے میں کوڑے کی آواز اس کے کان میں آئی اوپر سے اور ایک سوار کی آواز سنائی دی اوپر سے۔ وہ کہتا تھا بڑھ اے حیزدم (حیزدم اس فرشتے کے گھوڑے کا نام تھا) پھر جو دیکھا تو وہ کافر چت گر پڑا اس مسلمان کے سامنے، مسلمان نے جب اس کو دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان تھا اور اس کا منہ پھٹ گیا تھا جیسے کوئی کوڑا مارتا ہے اور سب سبز ہو گیا تھا۔ (کوڑے کی زہر سے)، پھر مسلمان انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور قصہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو سچ کہتا ہے یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی۔“ آخر مسلمانوں نے اسی دن ستر کافروں کو مارا اور ستر کو قید کیا۔ ابوزمیل نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب قیدی گرفتار ہو کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”تمہاری کیا رائے ہے ان قیدیوں کے بارے میں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول یہ ہماری برادری کے لوگ ہیں اور کنبے والے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ ان سے کچھ مال لے کر ان کو چھوڑ دیجئیے جس سے مسلمانوں کو طاقت ہو کافروں سے مقابلہ کرنے کی اور شاید ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرے اسلام کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کیا رائے ہے اے خطاب کے بیٹے!“ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، یا رسول اللہ! میری وہ رائے نہیں جو ابوبکر صدیق کی رائے ہے، میری رائے یہ ہے کہ آپ ان کو میرے حوالے کیجئیے ہم ان کی گردنیں ماریں تو عقیل کو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حوالے کیجئیے وہ ان کی گردن ماریں اور مجھے میرا فلاں عزیز دیجئیے میں اس کی گردن ماروں کیونکہ یہ لوگ کفر کے مہری ہیں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے پسند آئی۔ اور میری رائے پسند نہیں آئی، جب دوسرا دن ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے رو رہے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اور آپ کے ساتھی کیوں روتے ہیں اگر مجھے بھی رونا آئے تو میں بھی روؤں گا ورنہ رونے کی صورت بناؤں گا۔ آپ دونوں کے رونے سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں روتا ہوں اس واقعہ سے جو پیش آیا تمہارے ساتھیوں کو فدیہ لینے سے میرے سامنے ان کا عذاب لایا گیا اس درخت سے بھی زیادہ نزدیک (ایک درخت تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاسپھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِى الأَرْضِ» سے «فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَيِّبًا» (۸-الأنفال:۶۷-۶۹) اخیر تک ”یعنی نبی کو یہ درست نہیں کہ وہ قیدی رکھے جب تک زور نہ توڑدے کافروں کا زمین میں۔“
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ : " كُنَّا نَتَحَدَّثُ : أَنَّ أَصْحَابَ بَدْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ ، كَعِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ ، ثَلَاثُ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق .
براء روایت:
ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ غزوہ بدر کے دن بدری لوگ تعداد میں طالوت کے ساتھیوں کے برابر تین سو تیرہ تھے۔
