اسلامی تاریخ

کل احادیث 70

اسلامی تاریخ اور عہدِ نبوی کے مستند و اہم واقعات پر مبنی احادیث

یہ مبارک احادیث ہمیں اسلامی تاریخ، عہدِ رسالت کے روزمرہ معمولات اور خلفائے راشدین کے دورِ حکومت کے اہم ترین پہلوؤں سے روشناس کرواتی ہیں۔ ان روایات کے مطابق، اسلامی اسکالرز کے تجزیے کی روشنی میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب تک مسجد میں تشریف فرما رہتے، جہاں صحابہ کرام جاہلیت کے دور کی باتیں یاد کر کے ہنستے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرماتے۔ مزید برآں، ان احادیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے وعدوں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان وعدوں کی پاسداری اور سخاوت کا ثبوت ملتا ہے، جیسے انہوں نے بحرین کے مال کی آمد پر حضرت جابر کا وعدہ پورا کیا۔ اس کے ساتھ ہی، یہ روایات ہمیں اسلامی تاریخ کی جنگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑے گئے سات اہم غزووں اور حضرت ابوبکر و حضرت اسامہ رضی اللہ عنہما کی قیادت میں بھیجے گئے نو عسکری لشکروں کی تاریخی تفصیلات بھی فراہم کرتی ہیں جو کہ امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَى عَلَى أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ ، يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " ، قَالَ : قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ ، لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ ، لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ .

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیبیوں کے پاس آئے اور ایک ہانکنے والا ان کے اونٹوں کو ہانک رہا تھا جس کا نام انجشہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرابی ہو تیرے ہاتھ کی اے انجشہ! آہستہ لے چل شیشوں کو۔“ (یعنی عورتوں کو بوجہ نزاکت کے ان کو شیشہ فرمایا) ابوقلابہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بات فرمائی۔ اگر تم میں سے کوئی وہ بات کہے تو تم کھیل سمجھو۔

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْ أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " .

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کے ساتھ تھیں، اور ایک ہانکنے والا ان کے اونٹوں کو ہانک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجشہ! آہستہ لے چل شیشوں کو۔“

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُوَيْدًا يَا أَنْجَشَةُ ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ " .

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گانے والا خوش آواز تھا (جو اونٹ ہانکتے وقت گاتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”آہستہ چل اے انجشہ! مت توڑ شیشوں کو۔“ یعنی ناتوان عورتوں کو تکلیف مت دے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ : كَانَتْ أُمُّ الْحُرَيْرِ إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا ، فَقِيلَ لَهَا : إِنَّا نَرَاكِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْكِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ مَوْلَايَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلَاكُ الْعَرَبِ " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ : وَمَوْلَاهَا طَلْحَةُ بْنُ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ .

´محمد بن رزین کی والدہ کہتی ہیں کہ` جب کوئی عرب مرتا تو ام جریر پر اس کی موت بڑی سخت ہو جاتی یعنی انہیں زبردست صدمہ ہوتا تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا ہے تو آپ کو بہت صدمہ پہنچتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے مالک کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی نشانی ہے“۔ محمد بن رزین کہتے ہیں: ان کے مالک کا نام طلحہ بن مالک ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبِي جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْإِسْلَامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جُنَادَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : تَعَجَّبَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے شہروں میں ویرانی کے اعتبار سے مدینہ سب سے آخری شہر ہو گا“۔

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، وَأَنَسٍ ، وَأَبِي أَيُّوبَ ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .

ابوہریرہ روایت:

اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کی دونوں پتھریلی زمینوں ۱؎ کے درمیان کا حصہ حرم ہے“۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي سَعِيد ، وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٌ ، وَسُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، قَالَ : وَصَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ أَخُو سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کی تنگی معیشت اور اس کی سختیوں پر جو صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا“۔

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ : ذُكِرَتِ الْأَعَاجِمُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا يُقَالُ لَهُ : صَالِحُ بْنُ مِهْرَانَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عجم کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مجھے ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد ہے“۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْجُمُعَةِ ، فَتَلَاهَا ، فَلَمَّا بَلَغَ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سورة الجمعة آية 3 ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِنَا ؟ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ ، قَالَ : وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ فِينَا ، قَالَ : فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ , فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو الْغَيْثِ اسْمُهُ : سَالِمٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ مَدَنِيٌّ .

ابوہریرہ روایت:

جس وقت سورۃ الجمعہ نازل ہوئی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» پر پہنچے تو آپ سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں جو ابھی ہم سے ملے نہیں ہیں تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، وہ کہتے ہیں: اور سلمان فارسی ہم میں موجود تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان کے اوپر رکھا اور فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا پر بھی ہو گا تو بھی اس کے کچھ لوگ اسے حاصل کر لیں گے“۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا , وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْإِيمَانُ يَمَانٍ , وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اہل یمن آئے وہ نرم دل اور رقیق القلب ہیں، ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے“۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں