اللہ کے لیے ہجرت
کل احادیث 13
اللہ کی رضا کے لیے ہجرت کا مفہوم اور احادیث نبوی
ان احادیث مبارکہ میں اللہ کے لیے ہجرت کرنے کے مختلف پہلوؤں اور اس کی اصل روح کو واضح کیا گیا ہے۔ پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ظاہری ہجرت کا وہ سلسلہ ختم ہو گیا، اب جہاد اور نیک اعمال پر بیعت ہوگی۔ ایک حدیث میں آپ نے والدین کو روتا چھوڑ کر ہجرت کے لیے آنے والے شخص کو واپس بھیجا تاکہ وہ ان کی خدمت کر کے انہیں خوش کرے۔ اسی طرح، آپ نے ایک اعرابی کو اپنے وطن میں رہ کر زکوٰۃ ادا کرنے اور نیک عمل کرنے کی تلقین فرمائی کیونکہ اللہ کسی کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ سب سے افضل ہجرت کے بارے میں آپ نے سکھایا کہ انسان ان تمام باتوں اور کاموں کو چھوڑ دے جو اس کے رب کو ناپسند ہیں، اور شہری و دیہاتی ہجرت کے فرق کے ساتھ آزمائش اور اجر و ثواب کی وضاحت فرمائی۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ كَانُوا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، لِأَنَّهُمْ هَجَرُوا الْمُشْرِكِينَ ، وَكَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ مُهَاجِرُونَ ، لِأَنَّ الْمَدِينَةَ كَانَتْ دَارَ شِرْكٍ ، فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر مہاجرین میں سے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے مشرکین (ناطے داروں) کو چھوڑ دیا تھا۔ انصار میں سے (بھی) بعض مہاجرین تھے اس لیے کہ مدینہ کفار و مشرکین کا گڑھ تھا اور یہ لوگ (شرک کو چھوڑ کر) عقبہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمَ الْفَتْحِ لَا هِجْرَةَ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ , فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز فرمایا: ”ہجرت تو (باقی) نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت ہے، لہٰذا جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل پڑو“۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ ؟ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ , إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا " .
ابو سعید خدری روایت:
ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہارا برا ہو۔ ہجرت کا معاملہ تو سخت ہے۔ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ان کی زکاۃ نکالتے ہو؟“ کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ، پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ عَبْدٌ , فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ , وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ , فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعْنِيهِ " , فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا , حَتَّى يَسْأَلَهُ : " أَعَبْدٌ هُوَ ؟ " .
جابر روایت:
ایک غلام نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، آپ یہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ یہ غلام ہے، پھر اس کا مالک اسے ڈھونڈتے ہوئے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے ہاتھ بیچ دو“، چنانچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے بدلے خرید لیا، پھر آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی یہاں تک کہ آپ اس سے معلوم کر لیتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّي جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَقَدْ تَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ ، قَالَ : " ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا " .
عبداللہ بن عمرو روایت:
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ سے ہجرت پر بیعت کروں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے چھوڑا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم ان کے پاس واپس جاؤ اور انہیں جس طرح تم نے رلایا ہے اسی طرح ہنساؤ“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ : هِجْرَةُ الْحَاضِرِ ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي ، فَأَمَّا الْبَادِي ، فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا " .
عبداللہ بن عمرو روایت:
ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! کون سی ہجرت زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ تمام چیزیں چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناپسند ہیں“، اور فرمایا: ”ہجرت دو قسم کی ہے: ایک شہری کی ہجرت اور ایک اعرابی (دیہاتی) کی ہجرت، رہا اعرابی تو وہ جب بلایا جاتا ہے آ جاتا ہے اور اسے جو حکم دیا جاتا ہے مانتا ہے، لیکن شہری کی آزمائش زیادہ ہوتی ہے، اور اسی (حساب سے) اس کو بڑھ کر ثواب ملتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عمر بن خطاب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ يَعْلَى ، قَالَ : جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ , وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ " .
یعلیٰ روایت:
فتح مکہ کے روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے والد کے ساتھ آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے باپ سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان سے جہاد پر بیعت لوں گا، (کیونکہ) ہجرت تو ختم ہو چکی ہے“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ : إِنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا مُهَاجِرٌ ، قَالَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ , وَنِيَّةٌ فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
صفوان بن امیہ روایت:
میں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ کہتے ہیں کہ جنت میں مہاجر کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہو گا، آپ نے فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں ہے ۱؎، البتہ جہاد ۲؎ اور نیت ہے، لہٰذا جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل پڑو“۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّ أَبَا فَاطِمَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ ؟ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ بِالْهِجْرَةِ ، فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهَا " .
ابوفاطمہ روایت:
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا کام بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم پر ہجرت لازم ہے کیونکہ اس جیسا کوئی کام نہیں“۔
