مومن کا ایمان

کل احادیث 2

مومن کا ایمان اور اس کی خوبصورت مثالیں احادیث کی روشنی میں

پیارے بھائیو اور بہنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کا ایمان اور اس کی زندگی کی حالت کو بہت ہی خوبصورت اور سادہ مثالوں کے ذریعے واضح فرمایا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ ایک سچے مومن کی مثال اس لہراتی ہوئی کھیتی کی مانند ہے جسے ہوائیں کبھی ادھر اور کبھی ادھر ہلاتی رہتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن کی زندگی آزمائشوں اور بلاؤں سے خالی نہیں ہوتی، لیکن وہ ہر حال میں ثابت قدم رہتا ہے۔ اس کے برعکس، منافق کی مثال صنوبر کے سخت درخت جیسی ہے جو جھکتا نہیں بلکہ سیدھا ایک ہی بار جڑ سے کٹ جاتا ہے۔ ایک اور جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی، جس کے پتے کبھی نہیں جھڑتے اور وہ ہمیشہ فائدہ پہنچاتا ہے۔ ان احادیث سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ایمان کا اصل حسن آزمائشوں میں صبر کرنے اور ہمیشہ دوسروں کے لیے نفع بخش بننے میں ہے۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيَاحُ تُفَيِّئُهُ وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ بَلَاءٌ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ شَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تُسْتَحْصَدَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں (ادھر ادھر) ہلاتی رہتی ہیں۔ (ایسا ہی مومن ہے) مومن پر بلائیں برابر آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال صنوبر (اشوک) کے درخت کی ہے، وہ اپنی جگہ سے ہلتا نہیں جب تک کہ کاٹ نہ دیا جائے“۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا ، وَهِيَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ النَّخْلَةُ ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَقُولَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَحَدَّثْتُ عُمَرَ بِالَّذِي وَقَعَ فِي نَفْسِي ، فَقَالَ : لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کا پتا نہیں جھڑتا، یہ مومن کی مثال ہے تو مجھے بتاؤ یہ کون سا درخت ہے؟ عبداللہ کہتے ہیں: لوگ اسے جنگلوں کے درختوں میں ڈھونڈنے لگے، اور میرے دل میں آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کھجور ہے“، مجھے شرم آ گئی کہ میں (چھوٹا ہو کر بڑوں کے سامنے) بولوں (جب کہ لوگ خاموش ہیں) پھر میں نے (اپنے والد) عمر رضی الله عنہ کو وہ بات بتائی جو میرے دل میں آئی تھی، تو انہوں نے کہا (میرے بیٹے) اگر تم نے یہ بات بتا دی ہوتی تو یہ چیز مجھے اس سے زیادہ عزیز و محبوب ہوتی کہ میرے پاس اس اس طرح کا مال اور یہ یہ چیزیں ہوتیں“۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں