جنگ کا بہترین وقت
کل احادیث 2
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، بَعَثَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ إِلَى الْهُرْمُزَانِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، فَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ ، انْتَظَرَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ .
معقل بن یسار روایت:
عمر بن خطاب نے نعمان بن مقرن رضی الله عنہ کو ہرمز ان کے پاس بھیجا، پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی، نعمان بن مقرن رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (کسی غزوہ میں) حاضر ہوا، جب آپ دن کے شروع حصہ میں نہیں لڑتے تو انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، ہوا چلنے لگتی اور نصرت الٰہی کا نزول ہوتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ، أَمْسَكَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَإِذَا طَلَعَتْ ، قَاتَلَ ، فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ ، أَمْسَكَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، قَاتَلَ حَتَّى الْعَصْرِ ، ثُمَّ أَمْسَكَ حَتَّى يُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ يُقَاتِلُ ، قَالَ : وَكَانَ يُقَالُ : عِنْدَ ذَلِكَ تَهِيجُ رِيَاحُ النَّصْرِ ، وَيَدْعُو الْمُؤْمِنُونَ لِجُيُوشِهِمْ فِي صَلَاتِهِمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ بِإِسْنَادٍ أَوْصَلَ مِنْ هَذَا ، وَقَتَادَةُ لَمْ يُدْرِكْ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ ، وَمَاتَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ .
نعمان بن مقرن روایت:
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، جب فجر طلوع ہوتی تو آپ (قتال سے) ٹھہر جاتے یہاں تک کہ سورج نکل جاتا، جب سورج نکل جاتا تو آپ جہاد میں لگ جاتے، پھر جب دوپہر ہوتی آپ رک جاتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ عصر تک جہاد کرتے، پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ عصر پڑھ لیتے، پھر جہاد (شروع) کرتے۔ کہا جاتا تھا کہ اس وقت نصرت الٰہی کی ہوا چلتی ہے اور مومن اپنے مجاہدین کے لیے نماز میں دعائیں کرتے ہیں۔
