لوٹ مار کی ممانعت
کل احادیث 2
لوٹ مار اور غیر قانونی مال پر قبضہ کرنے کی ممانعت کے بارے میں احادیث
ان احادیث مبارکہ میں اسلام میں لوٹ مار، چوری اور ناجائز طریقے سے مال حاصل کرنے کی سخت ترین ممانعت بیان کی گئی ہے۔ پہلی حدیث پاک میں ایک سفر کا واقعہ مذکور ہے جہاں کچھ لوگوں نے تقسیم سے پہلے ہی مال غنیمت سے چیزیں لے کر پکانا شروع کر دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہانڈیوں کو الٹنے کا حکم دیا تاکہ واضح ہو جائے کہ بغیر اجازت یا تقسیم سے پہلے کسی بھی مال کا استعمال جائز نہیں ہے۔ دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی سخت الفاظ میں تنبیہ فرمائی کہ جو شخص بھی لوٹ مار اور غصب کا راستہ اختیار کرتا ہے، اس کا تعلق مسلم معاشرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے نہیں رہتا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کا مال زبردستی یا چوری چھپے چھیننا ایک سنگین گناہ ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوٹ پاٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَتَقَدَّمَ سَرْعَانُ النَّاسِ ، فَتَعَجَّلُوا مِنَ الْغَنَائِمِ ، فَاطَّبَخُوا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَى النَّاسِ ، فَمَرَّ بِالْقُدُورِ ، فَأَمَرَ بِهَا ، فَأُكْفِئَتْ ، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ ، فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ وَهَذَا أَصَحُّ ، وَعَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ سَمِعَ مِنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ ، وَأَنَسٍ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَجَابِرٍ .
رافع بن خدیج روایت:
ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جلد باز لوگ آگے بڑھے اور غنیمت سے (کھانے پکانے کی چیزیں) جلدی لیا اور (تقسیم سے پہلے اسے) پکانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پیچھے آنے والے لوگوں کے ساتھ تھے، آپ ہانڈیوں کے قریب سے گزرے تو آپ نے حکم دیا اور وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا، آپ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ۱؎۔
