بدشگونی
کل احادیث 17
بدشگونی اور توہم پرستی کے متعلق مستند احادیث
احادیثِ مبارکہ میں بدشگونی اور توہم پرستی کی حقیقت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بدفالی کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے بلکہ اسے شرک کی ایک قسم قرار دیا گیا ہے، اور اگر کسی کے دل میں ایسا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ اسے توکل کے ذریعے دور فرما دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے واضح کیا کہ بیماری کا خود بخود لگ جانا، صفر کا مہینہ یا ہامہ (الو) کا منحوس ہونا محض وہم ہے، اور اگر بالفرض کسی چیز میں نحوست کا احتمال ہو سکتا تو وہ گھر، عورت اور گھوڑا ہے۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق اسلام بدشگونی کے بجائے فالِ نیک یعنی اچھی بات کو پسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ سُهَيلٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ كَلِمَةً فَأَعْجَبَتْهُ ، فَقَالَ : أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فِيكَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات سنی جو آپ کو بھلی لگی تو آپ نے فرمایا: ”ہم نے تیری فال تیرے منہ سے سن لی (یعنی انجام بخیر ہے ان شاء اللہ)“۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ ، أَخْبَرَكَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الشُّؤْمِ فِي الْفَرَسِ وَالدَّارِ ، قَالَ : كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَهَا نَاسٌ ، فَهَلَكُوا ثُمَّ سَكَنَهَا آخَرُونَ ، فَهَلَكُوا ؟ فَهَذَا تَفْسِيرُهُ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : حَصِيرٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنَ امْرَأَةٍ لَا تَلِدُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مر گئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مر گئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ : الْمَرْأَةِ ، وَالْفَرَسِ ، وَالدَّارِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست تین چیزوں میں ہے، عورت، گھوڑے اور گھر میں“۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ ، وَالْمَرْأَةِ ، وَالْفَرَسِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست گھر میں، عورت میں اور گھوڑے میں ہے“۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا ، وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا ، فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَرُوهَا ذَمِيمَةً " .
انس بن مالک روایت:
ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آ گئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہو گئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، مذموم حالت میں “۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَةٍ ، أَنْ يَسْمَعَ يَا رَاشِدُ يَا نَجِيحُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
انس بن مالک روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سننا اچھا لگتا تھا کہ جب کسی ضرورت سے نکلیں تو کوئی یا راشد یا نجیح کہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ وَالْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ " .
انس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور مجھ کو فال نیک پسند ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! فال نیک کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اچھی بات“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَيْسَى بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا ، وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطِّيَرَةُ مِنَ الشِّرْكِ وَمَا مِنَّا ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَحَابِسٍ التَّمِيمِيِّ ، وَعَائِشَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَسَعْدٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَرَوَى شُعْبَةُ أَيْضًا ، عَنْ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ : سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل ، يَقُولُ : كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : " وَمَا مِنَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ " ، قَالَ سُلَيْمَانُ : هَذَا عِنْدِي قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : " وَمَا مِنَّا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدفالی شرک ہے“۔ (ابن مسعود کہتے ہیں) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کر دیتا ہے۔
