طب اور علاج
کل احادیث 29
طب اور علاج کے متعلق اہم احادیث اور نبوی طریقہ علاج
ان احادیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طب اور علاج کے حوالے سے بہترین رہنمائی فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کی دوا پیدا کی ہے اور جب صحیح دوا پہنچتی ہے تو اللہ کے حکم سے شفا حاصل ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف ادویات اور طریقوں میں سے پچھنے لگانے (حجامہ)، شہد کا گھونٹ پینے اور فصد (رگ کاٹنے) کو بہترین قرار دیا، جبکہ بلا ضرورت آگ سے داغنے کو ناپسند فرمایا۔ صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے کہ انہوں نے زخموں اور تکلیف کے علاج کے لیے پچھنے لگوائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بھی حجامہ کی اجازت دی اور بیمار صحابی حضرت ابی بن کعب کے پاس خود معالج بھیجا۔ یہ تمام باتیں ثابت کرتی ہیں کہ بیماری کی صورت میں علاج کروانا اور تدبیر اختیار کرنا عین سنت نبوی ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَال : " لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بیماری کی ایک دوا ہے جب وہ دوا پہنچتی ہے تو اللہ کے حکم سے شفا ہو جاتی ہے۔“
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، قال : جَاءَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أَهْلِنَا وَرَجُلٌ يَشْتَكِي خُرَاجًا بِهِ أَوْ جِرَاحًا ، فَقَالَ : مَا تَشْتَكِي ؟ قَالَ : خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ ، فَقَالَ : يَا غُلَامُ ائْتِنِي بِحَجَّامٍ ، فَقَالَ لَهُ : مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا ، قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ ، فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : إِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " قَالَ : فَجَاءَ بِحَجَّامٍ فَشَرَطَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ .
عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے، سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے گھر آئے اور ایک شخص کو شکوہ تھا زخم کا (یعنی قرحہ پڑ گیا تھا) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تجھ کو کیا شکایت ہے؟ وہ بولا: ایک قرحہ ہو گیا ہے جو نہایت سخت ہے مجھ پر۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے غلام! ایک پچھنے لگانے والے کو لے آ۔ وہ بولا: پچھنے والے کا کیا کام ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس زخم پر پچھنا لگانا چاہتا ہوں، وہ بولا: قسم اللہ کی مکھیاں مجھ کو ستائیں گی اور کپڑا لگے گا تو تکلیف ہو گی مجھ کو اور سخت گزرے گا مجھ پر۔ جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اس کو رنج ہوتا ہے پچھنے لگانے سے تو کہا کہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اگر تمہاری دواؤں میں کوئی بہتر دوا ہے تو تین ہی دوائیاں ہیں ایک تو پچھنا لگانا، دوسرے شہد کا ایک گھونٹ، تیسرے انگارے جلانا“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”میں داغ لینا بہتر نہیں جانتا“ راوی نے کہا: پھر پچھنے لگانے والا آیا اور پچھنے لگائے اس کو، تو اس کی بیماری جاتی رہی۔
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قالا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ " .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كِلَاهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس حدیث میں پانی سے ٹھنڈا کرنے کی بجائے جہنم کی گرمی کو پانی سے بجھانے کا ذکر ہے۔
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ صَبَّتِ الْمَاءَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : قَالَ إِبْرَاهِيمُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قال : سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ عَنْكُمْ وَقَالَ : قَالَ أَخْبَرَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
وحدثينيه أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، وَيُونُسَ الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ وَلَمْ يَقُلِ الشُّونِيزُ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے لیکن اس حدیث میں کلونجی کا ذکر نہیں ہے صرف کالے دانے کا بیان ہوا ہے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ دَاءٍ إِلَّا فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ مِنْهُ شِفَاءٌ إِلَّا السَّامَ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
وحدثينيه عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَخِي عَرِبَ بَطْنُهُ ، فَقَالَ لَهُ : " اسْقِهِ عَسَلًا " بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
