مجوسیوں سے جزیہ

کل احادیث 3

مجوسیوں سے جزیہ لینے کے احکام اور خلفائے راشدین کا طرز عمل

اسلامی ریاست میں غیر مسلم رعایا سے جزیہ کی وصولی کے حوالے سے واضح ضوابط موجود ہیں، جن میں مجوسیوں (آتش پرستوں) کا معاملہ بھی شامل ہے۔ ان مستند احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجوسیوں سے جزیہ لینے کے معاملے میں تذبذب کا شکار تھے، یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مقامِ ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ وصول فرمایا تھا۔ اس گواہی کے بعد حضرت عمر نے مجوس سے جزیہ لینے کا باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا۔ احادیث میں مزید صراحت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا، اور بعد میں اسی سنت کے مطابق حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے فارس کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق یہ احادیث ثابت کرتی ہیں کہ سلطنتِ اسلامیہ میں مجوسیوں کے ساتھ جزیہ کی حد تک اہل کتاب جیسا معاملہ کیا گیا۔

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ : " أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ ، وَأَخَذَهَا عُمَرُ مِنْ فَارِسَ ، وَأَخَذَهَا عُثْمَانُ مِنْ الْفُرْسِ "، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا ، فَقَالَ : هُوَ مَالِكٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

سائب بن یزید روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے مجوسیوں سے، اور عمر اور عثمان رضی الله عنہما نے فارس کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ : كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَلَى مَنَاذِرَ ، فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ ، انْظُرْ مَجُوسَ مَنْ قِبَلَكَ فَخُذْ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ ، فَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَخْبَرَنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .

بجالہ بن عبدہ روایت:

میں مقام مناذر میں جزء بن معاویہ کا منشی تھا، ہمارے پاس عمر رضی الله عنہ کا خط آیا کہ تمہاری طرف جو مجوس ہوں ان کو دیکھو اور ان سے جزیہ لو کیونکہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ۱؎۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَجَالَةَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ لَا يَأْخُذُ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ ، حَتَّى أَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ " ، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .

بجالہ بن عبدہ روایت:

عمر رضی الله عنہ مجوس سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا، اس حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں