نبی اکرم ﷺ کا حلیہ
کل احادیث 47
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهِ ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مِشْيَتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ ، إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، گویا آپ کے چہرہ پر سورج پھر رہا ہے، اور نہ میں نے کسی کو آپ سے زیادہ تیز رفتار دیکھا، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی، ہمیں آپ کے ساتھ چلنے میں زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور آپ کوئی دقت محسوس کئے بغیر چلے جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كَانَ لَيُنْزَلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ، ثُمَّ تَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سردی کے دن میں وحی اترتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہہ نکلتا (وحی کی سختی سے)۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامٍ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ : أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ، ثُمَّ يَفْصِمُ عَنِّي ، وَقَدْ وَعَيْتُهُ ، وَأَحْيَانًا مَلَكٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ ، فَأَعِي مَا يَقُولُ " .
عائشہ روایت:
حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیونکر آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو ایسی آتی ہے جیسے گھنٹی کی جھنکار وہ مجھ پر نہایت سخت ہوتی ہے پھر موقوف ہو جاتی ہے جبکہ میں یاد کر لیتا ہوں اور کبھی ایک فرشتہ آتا ہے مرد کی صورت میں اور جو وہ کہتا ہے اس کو یاد کر لیتا ہوں۔“
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَامْ عِنْدَنَا ، فَعَرِقَ ، وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ ، فَجَعَلَتْ تَسْلِتُ الْعَرَقَ فِيهَا ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ ؟ قَالَتْ : هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا ، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں آئے اور آرام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا۔ میری ماں ایک شیشی لائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہے؟“ وہ بولی: آپ کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شریک کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا ، وَلَيْسَتْ فِيهِ ، قَالَ : فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا ، فَأُتِيَتْ ، فَقِيلَ لَهَا : هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَامَ فِي بَيْتِكِ ، عَلَى فِرَاشِكِ ، قَالَ : فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ ، فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا ، فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا ، فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا ، قَالَ : أَصَبْتِ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں جاتے اور ان کے بچھونے پر سو رہتے۔ وہ وہاں نہیں ہوتی تھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے بچھونے پر سو رہے۔ وہ آئیں تو لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بچھونے پر سو رہے ہیں، یہ سن کر وہ آئیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ چمڑے کے بچھونے پر جمع ہو گیا ہے، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنا ڈبہ کھولا اور یہ پسینہ پونچھ پونچھ کر شیشیوں میں بھرنے لگیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا: ”کیا کرتی ہے اے ام سلیم“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم برکت کے لیے لیتے ہیں اپنے بچوں کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کیا۔“ (اوپر گزر چکا ہےکہ ام سلیم رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محرم تھیں اور محرم کے پاس جانا اور وہاں سو رہنا درست ہے)۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " يُكْرَهُ أَنْ يَنْتِفَ الرَّجُلُ الشَّعْرَةَ الْبَيْضَاءَ مِنْ رَأْسِهِ ، وَلِحْيَتِهِ ، قَالَ : وَلَمْ يَخْتَضِبْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي عَنْفَقَتِهِ ، وَفِي الصُّدْغَيْنِ ، وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ " .
انس بن مالک روایت:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سر اور داڑھی کے سفید بال اکھیڑنا مکروہ ہے (لیکن حرام نہیں ہے۔ نووی رحمہ اللہ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی داڑھی میں (جو نیچے کے ہونٹ کے تلے ہوتی ہے۔) کچھ سفید تھی اور کچھ کنپٹیوں پر اور کچھ سر میں۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ أَنَسٌ : " مَا شَمَمْتُ عَنْبَرًا قَطُّ ، وَلَا مِسْكًا ، وَلَا شَيْئًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ دِيبَاجًا ، وَلَا حَرِيرًا ، أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " .
انس روایت:
میں نے نہ عنبر نہ مشک نہ اور کوئی خوشبو ایسی سونگھی جیسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کی خوشبو تھی، اور میں نے نہ دیباج نہ حریر نہ اور کوئی چیز ایسی نرم چھوئی جیسی نرمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جسم میں تھی۔
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ ، كَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ ، وَلَا مَسِسْتُ دِيبَاجَةً ، وَلَا حَرِيرَةً ، أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً ، وَلَا عَنْبَرَةً ، أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک سفید چمکتا ہوا تھا۔ (نووی رحمہ اللہ نے کہا: یہ رنگ سب رنگوں سے عمدہ ہے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ مبارک موتی کی طرح تھا اور جب چلتے تو آگے جھکے ہوئے زور ڈال کر (یا ادھر ادھر جھکے جاتے تھے، جیسے کشتی جھکی جاتی ہے، زہری نے کہا: یہ معنی غلط ہیں کیوں کہ یہ مغرور کی صفت ہے۔ قاضی رحمہ اللہ نے کہا: مغرور کی صفت جب ہے کہ بناوٹ کرے اور جو خلقی ہو تو مذموم نہیں ہے) اور میں نے دیباج اور حریر بھی اتنا نرم نہیں پایا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی نرم تھی، اور میں نے مشک اور عنبر میں یہ خوشبو نہ پائی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں تھی۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈھوں کے قریب تک تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَال : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آدھے کانوں تک تھے۔
