نبی اکرم ﷺ کے اخلاق

کل احادیث 38

نبی اکرم ﷺ کے اخلاق اور عظیم صفات پر مبنی مبارک احادیث

نبی اکرم ﷺ کے اخلاق اور صفات مبارکہ تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان احادیث مبارکہ میں آپ ﷺ کی پاکیزہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔ پہلی حدیث میں آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت اور علم کو بارش سے تشبیہ دی گئی ہے، جو دلوں کو زندہ کرتی ہے اور جو اسے قبول کرتے ہیں وہ علم حاصل کر کے دوسروں کو سکھاتے ہیں۔ دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے امت کے لیے اپنی فکر مندی کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی ہے جو اپنی قوم کو آنے والے دشمن کے لشکر سے بروقت خبردار کرتا ہے، تاکہ وہ نجات پا سکیں۔ تیسری روایت آپ ﷺ کی بے مثال سخاوت کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر رمضان کے مبارک مہینے میں آپ ﷺ کی سخاوت تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ بڑھ جاتی تھی۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کائنات کے سب سے عظیم معلم، رہنما اور سخی تھے۔

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، فِي رِوَايَةِ فُضَيْلٍ ابْنُ شِهَابٍ ، وَفِي رِوَايَةِ جَرِيرٍ مُحَمَّدٌ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا لیکن سند میں راوی مختلف ہے۔

وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ .

‏‏‏‏ ابن شہاب نے بھی مالک کی حدیث کے مطابق روایت بیان کی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وقَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَكِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ .

‏‏‏‏ اعمش سے جریر کی سند کے موافق اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ ، أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُقَبِّلُ الْحَسَنَ ، فَقَالَ : إِنَّ لِي عَشْرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ وَاحِدًا مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمْ ، لَا يُرْحَمْ " .

ابوہریرہ روایت:

اقرع بن حابس نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیار کر رہے تھے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو تو بولا: یا رسول اللہ! میرے دس بچے ہیں میں نے ان میں سے کسی کو پیار نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رحم نہ کرے گا (بچوں، یتیموں، عاجزوں اور ضعیفوں پر) اللہ بھی اس پر رحم نہ کرے گا۔“

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .

ابوہریرہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ ، وَلَا يَرَانِي ، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ " ، قَالَ أَبُ وَإِسْحَاقَ : الْمَعْنَى فِيهِ عِنْدِي لَأَنْ يَرَانِي مَعَهُمْ ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ ، وَهُوَ عِنْدِي مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! ایک زمانہ ایسا آئے گا جب تم مجھ کو دیکھ نہ سکو گے، اور میرا دیکھنا تم کو تمہارے بال بچوں اور مال سے زیادہ عزیز ہو گا۔“ (اس لیے میری صحبت غنیمت سمجھو، زندگی کا اعتبار نہیں، اور دین کی باتیں جلد سیکھ لو)۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالُوا : لَكِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأَمْلِكُ إِنْ كَانَ اللَّهُ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ " ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ .

عائشہ روایت:

کچھ لوگ عرب کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا: تم اپنے بچوں کو پیار کرتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر وہ بولے: قسم اللہ کی ہم تو پیار نہیں کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیا کروں اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل سے رحم نکال لیا ہے۔“

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ ، إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا ، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا ، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا ، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دو کاموں کا اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان کو اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو اور جو گناہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر اس سے دور رہتے اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے واسطے کسی سے بدلہ نہیں لیا البتہ اگر کوئی اللہ کے حکم کے برخلاف کرتا تو اس کو سزا دیتے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ ، أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا ، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا ، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا ، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اختیار دیا گیا دو کاموں میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان کام کو اختیار کیا اگر وہ گناہ نہ ہوتا، اگر گناہ ہوتا تو سب لوگوں سے زیادہ اس سے دور رہتے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں