نبی اکرم ﷺ کے فضائل

کل احادیث 18

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ بَدَلَ أَتَمَّهَا : أَحْسَنَهَا .

‏‏‏‏ سلیم سے انہی اسناد کے ساتھ اس کی مثل روایت ہے اور اس میں پورا کی بجائے آرائش دیا ہے۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ يَقُولُونَ : مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِلَّا هَذِهِ اللَّبِنَةَ ، فَكُنْتُ أَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور پیغمبروں کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک شخص نے ایک محل بنایا نہایت عمدہ اور خوبصورت۔ لوگ اس کے گرد پھرنے لگے اور کہنے لگے: ہم نے اس سے بہتر عمارت نہیں دیکھی مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے، اور میں وہی اینٹ ہوں۔“ (جس سے نبوت کا محل پورا ہو گیا اب دوسرا کوئی نبی نیا میرے بعد نہ ہو گا)۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ أَبُ وَالْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي ، كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُيُوتًا فَأَحْسَنَهَا وَأَجْمَلَهَا وَأَكْمَلَهَا ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ وَيُعْجِبُهُمُ الْبُنْيَانُ ، فَيَقُولُونَ : أَلَّا وَضَعْتَ هَاهُنَا لَبِنَةً ، فَيَتِمَّ بُنْيَانُكَ ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور دوسرے پیغمبروں کی مثال جو مجھ سے پہلے ہو چکے ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کئی گھر بنائے اور ان کی زیبائش کی، آرائش دی اور پورا کیا، مگر ایک کونے پر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، اب لوگ اس کے گرد پھرنے لگے، اور ان کو وہ عمارت پسند آئی، وہ کہنے لگے، مکان والے سے: تو نے ایک اینٹ یہاں رکھ دی ہوتی، تو تیری عمارت پوری ہو جاتی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اینٹ میں ہوں۔“

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ ، وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ : هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ ؟ ، قَالَ : فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور دوسرے پیغمبروں کی مثال جو مجھ سے پہلے ہو چکے ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کئی گھر بنائے۔ اور ان کی زیبائش کی، آرائش کی اور مکمل کیا۔ مگر ایک کونے پر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ اب لوگ اس کے گرد گھومنے لگے۔ ان کو وہ عمارت پسند آئی، وہ مکان والے سے کہنے لگے: تو نے ایک اینٹ یہاں رکھ دی ہوتی تو تیری عمارت مکمل ہو جاتی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں یہ ہے کہ ”میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم الانبیاء ہوں۔“

حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ ؟ قَالَ : " وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ .

ابوہریرہ روایت:

لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا: ”جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے“۔ (یعنی ان کی پیدائش کی تیاری ہو رہی تھی)۔

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْثَّوْرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي كَعْبٌ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ ؟ قَالَ : " أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ " . قَالَ : هَذَا غَرِيبٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَكَعْبٌ لَيْسَ هُوَ بِمَعْرُوفٍ ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وسیلہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے جسے صرف ایک ہی شخص پا سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا“۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَتَمَّهَا وَأَكْمَلَهَا ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا ، وَيَقُولُونَ : لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ ، جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ " .

جابر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور دوسرے پیغمبروں کی مثال اس شخص کی مثال ہے، جس نے ایک گھر بنایا، اس کو پورا کیا اور تمام کیا، پر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگوں نے اس کے اندر جانا شروع کیا، اور لگے تعجب کرنے اور کہنے لگے: کاش! یہ اینٹ بھی خالی نہ ہوتی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس اینٹ کی جگہ ہوں، میں آیا اور پیغمبروں کو ختم کر دیا۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ، ثُمَّ سَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ، وَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ هَذَا قُرَشِيٌّ مِصْرِيٌّ مَدَنِيٌّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ شَامِيٌّ .

عبداللہ بن عمرو روایت:

´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم مؤذن کی آواز سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر میرے اوپر صلاۃ (درود) بھیجو کیونکہ جس نے میرے اوپر ایک بار درود بھیجا تو اللہ اس پر دس بار اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک (ایسا بلند) درجہ ہے جس کے لائق اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندہ ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں اور جس نے میرے لیے (اللہ سے) وسیلہ مانگا تو اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گئی“۔

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً ، فَقَالَ : أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَحْمَدُ ، وَالْمُقَفِّي ، وَالْحَاشِرُ ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ " .

ابوموسیٰ اشعری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کئی نام ہم سے بیان کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہوں اور احمد اور مقفی (یعنی عاقب) اور حاشر اور نبی التوبۃ اور نبی الرحمۃ۔“ (کیونکہ توبہ اور رحمت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ لے کر آئے)۔

وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ ، وَمَعْمَرٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ : وَمَا الْعَاقِبُ ؟ قَالَ : الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ ، وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، وَعُقَيْلٍ الْكَفَرَةَ ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ الْكُفْرَ .

زہری روایت:

زہری سے انہی اسناد کے ساتھ مروی ہے۔ اور شعیب و معمر کی حدیث میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ حدیث میں ہے کہ میں نے زہری سے کہا: عاقب کے کیا معنی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: وہ ذات جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ اور حدیث معمر و عقیل میں الفاظ کا اختلاف ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں