عائشہؓ کے فضائل

کل احادیث 8

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور ان کی شانِ مبارک

ان صحیح احادیث مبارکہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور ان کی منفرد اسلامی شان و عظمت کا خوبصورت تذکرہ ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام عورتوں پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کو ظاہر کرتے ہوئے ان کی مثال ثرید سے دی، جو تمام کھانوں میں سب سے بہترین اور لذیذ ترین کھانا مانا جاتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں دیگر خواتین پر ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، ایک اہم ترین خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی وہ واحد خاتون ہیں جن کے لحاف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی، جبکہ آپ کی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی کو یہ منفرد مقام حاصل نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عام لوگ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خاص طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن ہی تحائف اور ہدیے بھیجا کرتے تھے۔ یہ تمام باتیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اعلیٰ مرتبت اور بارگاہِ رسالت میں ان کے خاص مقام کو پوری طرح واضح کرتی ہیں۔

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِر الطَّعَامِ " .

عائشہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی سارے کھانوں پر“۔

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق الصَّغَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا أَتَانِي الْوَحْيُ فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ إِلَّا هِيَ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! مجھے عائشہ کے تعلق سے ایذا نہ دو، اس لیے کہ اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی عورت تم میں سے ایسی نہیں ہے جس کے لحاف میں میرے پاس وحی آئی ہو“۔

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ ، يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

عائشہ روایت:

لوگ ہدیے اور تحفے بھیجتے جس دن عائشہ کی باری ہوتی، وہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی چاہتے تھے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هُدَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، , قَالَتْ : أَوْحَى اللَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا مَعَهُ ، فَقُمْتُ , فَأَجَفْتُ الْبَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ , فَلَمَّا رُفِّهَ عَنْهُ ، قَالَ لِي : " يَا عَائِشَةُ , إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ " .

عائشہ روایت:

اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی، میں آپ کے ساتھ تھی، میں اٹھی اور اپنے اور آپ کے درمیان دروازہ بند کر دیا، جب وحی ختم ہو گئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”عائشہ! جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“۔

أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ " . قَالَتْ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ , وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، تَرَى مَا لَا نَرَى .

عائشہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“، انہوں نے کہا: «وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ» (جبرائیل کو عائشہ نے سلام کا جواب دیا اور کہا:) آپ تو وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے“۔

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ , هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ " . مِثْلَهُ سَوَاءٌ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا الصَّوَابُ , وَالَّذِي قَبْلَهُ خَطَأٌ .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ اور آگے ویسے ہی ہے جیسے اوپر گزرا“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ روایت ٹھیک ہے، پہلی والی غلط ہے۔

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .

ابوموسیٰ اشعری روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی تمام کھانوں پر“ ۱؎۔

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رُمَيْثَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : " أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّمْنَهَا أَنْ تُكَلِّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ ، وَتَقُولُ لَهُ : إِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةَ . فَكَلَّمَتْهُ ، فَلَمْ يُجِبْهَا , فَلَمَّا دَارَ عَلَيْهَا كَلَّمَتْهُ أَيْضًا , فَلَمْ يُجِبْهَا ، وَقُلْنَ : مَا رَدَّ عَلَيْكِ ؟ قَالَتْ : لَمْ يُجِبْنِي . قُلْنَ : لَا تَدَعِيهِ حَتَّى يَرُدَّ عَلَيْكِ أَوْ تَنْظُرِينَ مَا يَقُولُ . فَلَمَّا : دَارَ عَلَيْهَا , كَلَّمَتْهُ ، فَقَالَ : " لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ إِلَّا فِي لِحَافِ عَائِشَةَ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَانِ الْحَدِيثَانِ صَحِيحَانِ عَنْ عَبْدَةَ .

ام سلمہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے ان سے بات کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں کہ لوگ عائشہ کی باری کے دن ہدیے اور تحفے بھیجتے ہیں اور آپ سے کہیں کہ ہمیں بھی خیر سے اسی طرح محبت ہے جیسے آپ کو عائشہ سے ہے، چنانچہ انہوں نے آپ سے گفتگو کی لیکن آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا، جب ان کی باری کا دن آیا تو انہوں نے پھر بات کی، آپ نے انہیں جواب نہیں دیا۔انہوں (بیویوں) نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کوئی جواب دیا؟ وہ بولیں: کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا: تم چھوڑنا مت، جب تک کوئی جواب نہ دے دیں۔ (یا یوں کہا:) جب تک تم دیکھ نہ لو کہ آپ کیا جواب دیتے ہیں۔ جب پھر ان کی باری آئی تو انہوں نے آپ سے گفتگو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ کے تعلق سے مجھے اذیت نہ دو، اس لیے کہ عائشہ کے لحاف کے علاوہ تم میں سے کسی عورت کے لحاف میں ہوتے ہوئے میرے پاس وحی نہیں آئی“۔ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: عبدہ سے مروی یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں