ذاتی صفائی

کل احادیث 2

ذاتی صفائی اور سننِ فطرت سے متعلق اہم احادیثِ نبوی

اسلام میں ذاتی صفائی اور جسمانی پاکیزگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور اسے انسانی فطرت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ ان احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جو سننِ فطرت میں سے ہیں، جن میں ختنہ کرنا، زیرِ ناف کے بال صاف کرنا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھوں کو کاٹنا شامل ہے۔ یہ تمام امور انسانی صحت، نفاست اور ذاتی صفائی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ مزید برآں، ان کاموں کو باقاعدگی سے سرانجام دینے کے لیے ایک وقت بھی مقرر کیا گیا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق، ان تمام ضروری کاموں جیسے ناخن کاٹنے، مونچھیں تراشنے اور جسم کے زائد بال صاف کرنے کے لیے چالیس دن کی حد مقرر فرمائی گئی ہے، یعنی کسی بھی مسلمان کو چالیس دن سے زیادہ ان چیزوں کو بغیر صفائی کے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہ احکام ہمیں سکھاتے ہیں کہ ایک مومن کو ہمیشہ ظاہری طور پر صاف ستھرا اور پاکیزہ رہنا چاہیے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ : الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت ہیں یا فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کا بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھ کاٹنا“۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا صَدُقَةُ الدَّقِيقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلْقَ الْعَانَةِ وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ وَقَصَّ الشَّارِبِ وَنَتْفَ الْإِبِطِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وُقِّتَ لَنَا وَهَذَا أَصَحُّ .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیر ناف کے بال مونڈنے، ناخن کاٹنے، مونچھیں تراشنے اور بغل کے بال اکھاڑنے کی چالیس دن میں ایک بار کی تحدید فرما دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جعفر بن سلیمان نے ابوعمران سے اور انہوں نے انس سے روایت کیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں «وقَّتَ لنا» کے بجائے «وُقِّتَ لنا» بصیغہ مجہول ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں