قزع کی ممانعت

کل احادیث 5

سر کے کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑنے (قزع) کی ممانعت پر احادیث

اسلام میں بچوں کی پرورش اور ان کی ظاہری وضع قطع کے حوالے سے بھی خوبصورت اور واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ ان مستند احادیث مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 'قزع' یعنی سر کے کچھ بال مونڈنے اور کچھ حصے کے بال چھوڑ دینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو اس حالت میں دیکھا تو والدین کو ہدایت فرمائی کہ یا تو اس کا پورا سر مونڈ دو یا پھر پورے بال چھوڑ دو۔ احادیث کے مطابق سر پر الگ سے چوٹیاں یا لٹیں رکھنا یہودیوں کا طریقہ اور ان کی مشابہت ہے جس سے بچنا لازمی ہے۔ البتہ، اگر ماں باپ بچوں کے بال برابر رکھیں اور نبی کریمﷺ ازراہِ شفقت انہیں چھوئیں تو وہ برکت کا باعث ہے۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق ہمیں اپنے بچوں کے ہیئر اسٹائل میں بھی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : أَحْمَدُ كَانَ رَجُلًا صَالِحًا ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ وَالْقَزَعُ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ فَيُتْرَكَ بَعْضُ شَعْرِهِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کے کچھ بال چھوڑ دئیے جائیں۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْقَزَعِ ، وَهُوَ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ فَتُتْرَكَ لَهُ ذُؤَابَةٌ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کی چوٹی چھوڑ دی جائے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال منڈے ہوئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے تو آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: ”یا تو پورا مونڈ دو، یا پورا چھوڑے رکھو“۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَتْ لِي ذُؤَابَةٌ ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي : لَا أَجُزُّهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُدُّهَا وَيَأْخُذُ بِهَا " .

انس بن مالک روایت:

میرے ایک چوٹی تھی، میری ماں نے مجھ سے کہا: میں اس کو نہیں کاٹوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ازراہ شفقت) اسے پکڑ کر کھینچتے تھے۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ ، قَالَتْ : وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ ، فَمَسَحَ رَأْسَكَ وَبَرَّكَ عَلَيْكَ ، وَقَالَ : " احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هَذَا زِيُّ الْيَهُودِ " .

حجاج بن حسان روایت:

ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، مجھ سے میری بہن مغیرہ نے بیان کیا: تو اس وقت لڑکا تھا اور تیرے سر پر دو چوٹیاں یا دو لٹیں تھیں تو انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی اور کہا: ان دونوں کو مونڈوا ڈالو، یا انہیں کاٹ ڈالو کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں