مہندی کا استعمال
کل احادیث 3
مہندی کا استعمال اور اس کے شرعی احکام پر احادیث
اسلام میں خواتین کے لیے بناؤ سنگھار اور اپنی زینت کو برقرار رکھنے کی بڑی اہمیت ہے، اور انہی شرعی امور میں مہندی کا استعمال بھی شامل ہے۔ ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کے لیے بالوں اور ناخنوں پر مہندی کا خضاب لگانا نہ صرف جائز ہے بلکہ یہ ان کی نسوانیت کی علامت اور سنّت سے ثابت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مطابق، اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہندی کی بو کو ذاتی طور پر ناپسند فرماتے تھے، لیکن انہوں نے کبھی عورتوں کو اس کے استعمال سے منع نہیں کیا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ مردوں سے مشابہت سے بچنے اور اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لیے اپنے ہاتھوں اور ناخنوں کو مہندی کے رنگ سے تبدیل کریں تاکہ ان کے ہاتھ مردوں جیسے دکھائی نہ دیں۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَتْنِي غِبْطَةُ بِنْتُ عَمْرٍو الْمُجَاشِعِيَّةُ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الْحَسَنِ ، عَنْ جَدَّتِهَا ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ هَنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَايِعْنِي ، قَالَ : " لَا أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ كَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ " .
عائشہ روایت:
ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: ”جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّورِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عِصْمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، فَقَالَ : مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ ؟ قَالَتْ : بَلِ امْرَأَةٌ ، قَالَ : لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ يَعْنِي بِالْحِنَّاءِ " .
عائشہ روایت:
ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا، اور فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا“ تو اس نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی“ یعنی مہندی سے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ ، " أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَائِشَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْ خِضَابِ الْحِنَّاءِ ، فَقَالَتْ : لَا بَأْسَ بِهِ وَلَكِنْ أَكْرَهُهُ ، كَانَ حَبِيبِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ رِيحَهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : تَعْنِي خِضَابَ شَعْرِ الرَّأْسِ .
کریمہ بنت ہمام روایت:
ایک عورت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو ناپسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد سر کے بال کا خضاب ہے۔
