نزول قرآن کا پس منظر
کل احادیث 4
نزولِ قرآن کا پس منظر اور احادیثِ مبارکہ
قرآن کریم کی مختلف سورتوں اور آیات کے نزول کا ایک خاص پس منظر ہے جسے شانِ نزول کہا جاتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق، وحی کے ابتدائی دور میں جب کچھ وقت کے لیے سلسلہ رکا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان پر اسی فرشتے کو دیکھا اور گھر آ کر کپڑا اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی، جس پر سورہ المدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ اسی طرح غزوہ بدر کے موقع پر ایک گمشدہ سرخ چادر کے حوالے سے لوگوں کے خیالات پر سورہ آل عمران کی آیت نازل ہوئی کہ نبی خیانت نہیں کر سکتا۔ ایک اور واقعے میں، جب مسلمانوں نے سلام کہنے والے ایک شخص کو قتل کر کے اس کی بکریاں لے لیں، تو سورہ النساء کی آیت نازل ہوئی جس میں دنیاوی سامان کے لیے کسی کے اسلام کو رد کرنے سے منع کیا گیا۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق، یہ احادیث ہمیں وحی کی کیفیت اور آیات کے نزول کے حقیقی اسباب کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ إِسْمَاعِيل : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً فَذَكَرَ حَدِيثَ الْوَحْيِ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : " حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ سورة سبأ آية 23 " .
ابوہریرہ روایت:
´اس سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حدیث ۱؎ روایت کی اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے قول «حتى إذا فزع عن قلوبهم» ”یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے“ (سورۃ سبا: ۲۳) ۲؎ سے یہی مراد ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَحِقَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ : وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة النساء آية 94 تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
مسلمان ایک شخص سے ملے جو اپنی بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے السلام علیکم کہا پھر بھی مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا اور وہ ریوڑ لے لیا تو یہ آیت کریمہ: «ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا» ”جو شخص تمہیں سلام کہے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان یعنی ان بکریوں کو چاہتے ہو“ (سورۃ النساء: ۹۴) نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ظَهَرَتْ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ ، فَأَعْجَبَ ذَلِكَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَنَزَلَتْ الم { 1 } غُلِبَتِ الرُّومُ { 2 } إِلَى قَوْلِهِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ سورة الروم آية 1 ـ 4 ، قَالَ : يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِظُهُورِ الرُّومِ عَلَى فَارِسَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَيُقْرَأُ غَلَبَتْ وَغُلِبَتْ ، يَقُولُ : كَانَتْ غُلِبَتْ ثُمَّ غَلَبَتْ ، هَكَذَا قَرَأَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ غَلَبَتْ .
ابو سعید خدری روایت:
جنگ بدر کے موقع پر رومی (اہل کتاب نصاریٰ) اہل فارس (آتش پرست مجوسیوں) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون») تک کی آیات نازل ہوئیں۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : " وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ ، فُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : لَعَلّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : يَغُلَّ مَفْتُوحَةُ الْيَاءِ .
مقسم مولیٰ ابن عباس روایت:
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت: «وما كان لنبي أن يغل» ”نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے۔۔۔“ (سورۃ آل عمران: ۱۶۱) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہو گئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے: «وما كان لنبي أن يغل» نازل کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يغل» یا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔
