سورہ فلق اور ناس

کل احادیث 15

أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتَعَوَّذُ مِنْ عَيْنِ الْجَانِّ ، وَعَيْنِ الْإِنْسِ ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ أَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَى ذَلِكَ " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کی نظر بد اور انسانوں کی نظر بد سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے، پھر جب معوذتین اتری تو آپ نے ان کو پڑھنا شروع کیا اور باقی سب چھوڑ دیا۔

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَدَلٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ يَا جَابِرُ " ، قُلْتُ : وَمَاذَا أَقْرَأُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اقْرَأْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " , فَقَرَأْتُهُمَا ، فَقَالَ : " اقْرَأْ بِهِمَا وَلَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا " .

جابر بن عبداللہ روایت:

مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! پڑھو“، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں کیا پڑھوں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”پڑھو «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» “ میں نے یہ دونوں سورتیں پڑھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: ”انہیں پڑھا کرو، تم ان جیسی سورتیں ہرگز نہ پڑھو گے“۔

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ فَرَكِبَهَا وَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ : " اقْرَأْ " ، قَالَ : وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اقْرَأْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ " , فَأَعَادَهَا عَلَيَّ حَتَّى قَرَأْتُهَا فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا ، قَالَ : " لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا , فَمَا قُمْتُ يَعْنِي بِمِثْلِهَا " .

عقبہ بن عامر روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سفید اونٹنی تحفے میں آئی۔ آپ اس پر سوار ہوئے اور میں نے اس کی نکیل پکڑ کر چلنا شروع کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ سے فرمایا: ”پڑھو“، وہ بولے: اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: ”پڑھو « قل أعوذ برب الفلق * من شر ما خلق» آپ نے اسے دہرایا یہاں تک کہ میں نے بھی اسے پڑھا، پھر آپ نے جان لیا کہ میں اس سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہوا۔ (چنانچہ) آپ نے فرمایا: شاید تم نے اسے بہت ہلکا سمجھا۔ لیکن مجھے (پناہ مانگنے کے لیے) اس جیسی سورۃ نہیں ملی۔

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ التِّرْمِذِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , " أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ ؟ قَالَ عُقْبَةُ : فَأَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ " .

عقبہ بن عامر روایت:

´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں یہی دونوں سورتیں ہمیں پڑھائیں۔

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ الْعَلَاءُ ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُقْبَةُ , أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا ؟ " فَعَلَّمَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا , فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ , فَقَالَ : " يَا عُقْبَةُ كَيْفَ رَأَيْتَ ؟ " .

عقبہ بن عامر روایت:

میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں جو مجھے پڑھائی گئی ہیں؟“ پھر آپ نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائی، لیکن آپ نے مجھے ان دونوں پر خوش ہوتے نہیں دیکھا، پھر جب آپ فجر کے لیے مسجد آتے تو انہیں دونوں سورتوں سے لوگوں کو فجر پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”عقبہ! تم نے (ان کو) کیسا پایا“۔

أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : بَيْنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ , إِذْ قَالَ : " أَلَا تَرْكَبُ يَا عُقْبَةُ ؟ " , فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبْ مَرْكَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تَرْكَبُ يَا عُقْبَةُ ؟ " , فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَكُونَ مَعْصِيَةً ، فَنَزَلَ وَرَكِبْتُ هُنَيْهَةً , وَنَزَلْتُ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا ثُمَّ مَرَّ بِي ، فَقَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ؟ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَقُمْتَ " .

عقبہ بن عامر روایت:

ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری (اونٹنی) کی نکیل ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کیا تم سوار نہیں ہو گے؟“ میں نے آپ کی بزرگی کا خیال کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر ہو جاؤں، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم سوار نہیں ہو گے عقبہ؟“ تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں نافرمانی نہ ہو جائے، پھر آپ اترے اور میں تھوڑی دیر کے لیے سوار ہوا پھر میں اتر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور فرمایا: ”لوگ جو سورتیں پڑھتے ہیں، ان میں سے میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں؟“چنانچہ آپ نے مجھے پڑھ کر سنائی «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس»، پھر نماز قائم کی گئی، تو آپ آگے بڑھے اور ان دونوں سورتوں کو پڑھا، پھر آپ میرے پاس سے گزرے، اور فرمایا: ”عقبہ! یہ کیسی لگیں؟ جب جب سوؤ اور جب جب جاگو انہیں پڑھا کرو“۔

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا عُقْبَةُ , قُلْ " ، فَقُلْتُ : مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عُقْبَةُ , قُلْ " ، قُلْتُ : مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ ارْدُدْهُ عَلَيَّ ، فَقَالَ : " يَا عُقْبَةُ , قُلْ " ، قُلْتُ : مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ " , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " قُلْ " ، قُلْتُ : مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " مَا سَأَلَ سَائِلٌ بِمِثْلِهِمَا , وَلَا اسْتَعَاذَ مُسْتَعِيذٌ بِمِثْلِهِمَا " .

عقبہ بن عامر روایت:

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کہو“، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر فرمایا: ”عقبہ! کہو“، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، میں نے کہا: اللہ کرے آپ اسے پھر دہرائیں، آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کہو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» میں نے اسے پڑھا یہاں تک کہ اسے مکمل کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”کہو“، میں نے عرض کیا: کیا کہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” «قل أعوذ برب الفلق» “، پھر میں نے اسے بھی مکمل پڑھا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ نہیں مانگا اور نہ کسی پناہ مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ مانگی“۔

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ , فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ , فَقُلْتُ : أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ ، أَقْرِئْنِي سُورَةَ يُوسُفَ ، فَقَالَ : " لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ " .

عقبہ بن عامر روایت:

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں پر رکھا، میں نے عرض کیا: مجھے سورۃ ہود پڑھایئے، مجھے سورۃ یوسف پڑھایئے، آپ نے فرمایا: ”تم اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» سے زیادہ بہتر کوئی اور سورۃ نہیں پڑھو گے۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ " .

عقبہ بن عامر روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر کچھ ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان جیسی آیات پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں، «قل أعوذ برب الفلق» پوری سورت اور «قل أعوذ برب الناس» “ پوری سورۃ۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ فِي غَزْوَةٍ إِذْ قَالَ : " يَا عُقْبَةُ , قُلْ " , فَاسْتَمَعْتُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عُقْبَةُ , قُلْ " , فَاسْتَمَعْتُ , فَقَالَهَا الثَّالِثَةَ ، فَقُلْتُ : مَا أَقُولُ ؟ فَقَالَ : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَرَأَ السُّورَةَ حَتَّى خَتَمَهَا " , ثُمَّ قَرَأَ : " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَقَرَأْتُ مَعَهُ حَتَّى خَتَمَهَا " , ثُمَّ قَرَأَ : " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ , فَقَرَأْتُ مَعَهُ حَتَّى خَتَمَهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " مَا تَعَوَّذَ بِمِثْلِهِنَّ أَحَدٌ " .

عقبہ بن عامر جہنی روایت:

ایک مرتبہ جب ایک غزوہ میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کہو“، میں آپ کی طرف متوجہ ہوا، پھر آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کہو“، میں پھر متوجہ ہوا۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا تو میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» پھر پوری سورت پڑھی، اس کے بعد «قل أعوذ برب الفلق» پوری پڑھی، میں نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی، پھر آپ نے «قل أعوذ برب الناس» پوری پڑھی اور میں نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی، اور فرمایا: ”ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ کسی نے پناہ نہیں مانگی“۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں