مسجد کے آداب
کل احادیث 88
مسجد کے آداب اور تحیۃ المسجد کی اہمیت پر احادیث
مسجد اللہ تعالیٰ کی عبادت کا گھر ہے اور اس میں داخل ہونے کے کچھ خاص آداب ہیں۔ ان احادیث مبارکہ سے ہمیں واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان مسجد میں داخل ہو، تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز (تحیۃ المسجد) ضرور ادا کرنی چاہیے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔ احادیث کے مطابق، ایک مرتبہ جب ایک صحابی مسجد میں آئے اور وہ یہ نماز پڑھے بغیر بیٹھ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ٹوکا اور بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا۔ اسی طرح ایک اور روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ جب مسجد میں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا قرض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں دو رکعت پڑھنے کی ہدایت فرمائی۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق یہ تمام احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ مسجد کا احترام کرنا اور وہاں جا کر سب سے پہلے نماز ادا کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ مسجد کا تقدس اور آداب برقرار رہیں۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ . ح قَالَ : وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَأَى نُخَامَةً ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
اس سند سے بھی یہ حدیث مذکوہ حدیث کی طرح آتی ہے۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، يُرِيدُ الثُّومَ ، فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسْجِدِنَا ، وَلَمْ يَذْكُرْ : الْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ .
اس سند کے ساتھ یہ الفاظ آئے ہیں کہ ”جس نے کھایا اس درخت سے یعنی لہسن، پس وہ نہ ملے ہمارے ساتھ ہماری مسجد میں۔“ لیکن اس میں پیاز اور گندنا کا ذکر نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، وَإِذَا خَرَجَ ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ " ، قَالَ مُسْلِم : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى ، يَقُولُ : كَتَبْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ كِتَابِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ يَحْيَى الْحِمَّانِيَّ ، يَقُولُ : وَأَبِي أُسَيْدٍ .
ابوحمید یا ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی مسجد میں آۓ تو کہے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِى أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» یا اللہ! کھول دے میرے لیے دروازے اپنی رحمت کے اور جب نکلے تو کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» یااللہ! میں مانگتا ہوں تیرا فضل یعنی رزق اور دنیا کی نعمتیں۔“ مسلم نے کہا میں نے یحییٰ بن یحییٰ سے سنا کہ کہتے تھے لکھی میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال کی کتاب سے اور کہا انہوں نے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ یحییٰ حمانی کہتے تھے اور روایت ہے ابواسید سے۔
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
اس سند کے ساتھ ابوحمید یا اسید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مذکورہ حدیث کی طرح نقل فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيِّ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ ، فَلْيَقُلْ لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص کسی کو مسجد میں کسی گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو کہے: اللہ کرے تمہاری چیز نہ ملے، اس لیے کہ مسجدیں اس کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں“۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَن الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : مَا بَالُ أَحَدِكُمْ ، يَقُومُ مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ ، فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ ، فَإِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَتَنَخَّعْ عَنْ يَسَارِهِ ، تَحْتَ قَدَمِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ، فَلْيَقُلْ هَكَذَا ، وَوَصَفَ الْقَاسِمُ ، فَتَفَلَ فِي ثَوْبِهِ ، ثُمَّ مَسَحَ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلے کی طرف تھوک دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے پروردگار کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے پھر اپنے سامنے تھوکتا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ کوئی اس کی طرف منہ کرے پھر اس کے منہ پر تھوک دے۔ جب تم میں سے کسی کو تھوک آئے تو بائیں طرف قدم کے نیچے تھوکے۔ اگر جگہ نہ ہو تو ایسا کرے۔“ قاسم نے جو اس حدیث کا راوی ہے یوں بیان کیا کہ اپنے کپڑے میں تھوکا پھر اس کپڑے کو مل ڈالا۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ . ح قَالَ : وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَرُدُّ ثَوْبَهُ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو اوپر گزری۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے الٹ پلٹ کر رہے ہیں۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، وَلَا يُؤْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس درخت میں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے پاس نہ پھٹکے اور نہ ہم کو لہسن کی بو سے ستائے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ ، فَلْيَقُلْ : لا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کو کوئی گمشدہ چیز مسجد میں ڈھونڈھتے سنے (یعنی وہ اپنی بلند آواز سے اپنی چیز کے لئے لوگوں کو پکارے) تو کہے: اللہ کرے تیری چیز نہ ملے اس لئے کہ مسجدیں اس واسطے نہیں بنائی گئیں۔“
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الأَسْوَدِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ بِمِثْلِهِ .
ابوہریرہ روایت:
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
