نماز پڑھنے کی جگہ
کل احادیث 32
نماز پڑھنے کی جگہ کے بارے میں اہم احادیث مبارکہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کی روشنی میں امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم احسان ہے کہ پوری زمین کو ہمارے لیے نماز پڑھنے کی جگہ (مسجد) اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ گزشتہ انبیاء کرام کے برعکس، اس امت کے کسی بھی شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت مل جائے، وہ بلا جھجھک اسی جگہ نماز ادا کر سکتا ہے۔ اگر پانی میسر نہ ہو تو زمین کی پاک مٹی سے تیمم کر کے طہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ اسلام نے عبادت کو آسان بنا دیا ہے اور نماز کی ادائیگی کے لیے کسی خاص عمارت یا جگہ کا ہونا فرض نہیں بلکہ پوری دھرتی پاک ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمِثْلِهِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند کے ساتھ بھی آئی ہے اسی طرح۔
وحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ ، مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ .
اوپر والی حدیث کی طرح یہ بھی ایک اور سند سے منقول ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
مذکورہ بالا حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْمُقْرِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا فِي دَارِي أُصَلِّي فِيهِ ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا عَمِيَ ، فَجَاءَ فَفَعَلَ " .
ابوہریرہ روایت:
قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خبر بھیجی کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں مسجد کے لیے حد بندی کر دیں تاکہ میں اس میں نماز پڑھا کروں، اور یہ اس لیے کہ وہ صحابی نابینا ہو گئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ان کی مراد پوری کر دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ ، وَأَعْطَانَ الْإِبِلِ ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو“۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فُضِّلْتُ عَلَى الأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ ، أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً ، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ کو چھ باتوں کی وجہ سے اور پیغمبروں پر فضیلت دی گئی۔ پہلی تو مجھ کو وہ کلام ملا جس میں لفظ تھوڑے اور معنی بہت ہیں (یعنی کلام اللہ یا خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات) اور میں مدد دیا گیا رعب سے اور میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں اور میرے لئے ساری زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ کی گئی۔ اور میں تمام مخلوقات کی طرف (خواہ جن ہوں یا آدمی عرب ہوں یا غیر عرب کے) بھیجا گیا اور میرے اوپر نبوت ختم کی گئی۔“
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ ، فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيَّ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے وہ باتیں دے کر بھیجا جن میں لفظ تھوڑے ہیں اور معانی بہت ہیں اور مجھے مدد ملی رعب سے اور میں ایک بار سو رہا تھا، اتنے میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تشریف لے گئے اور تم زمین کے خزانے نکال رہے ہو (یعنی ملک کے ملک فتح کرتے ہو وہاں کی سب دولتیں لوٹتے ہو)۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَى الْعَدُوِّ ، وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ ، أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ ، فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دشمن پر مدد ملی رعب سے اور مجھے وہ باتیں ملیں جن میں لفظ کم ہیں پر معانی بہت ہیں۔ اور میں ایک بار سو رہا تھا اتنے میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی اور مجھے «جوامع الكلم» عطا کیے گئے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَسُئِلَ عَنِ الْحِيطَانِ ، تُلْقَى فِيهَا الْعَذِرَاتُ فَقَال : " إِذَا سُقِيَتْ مِرَارًا فَصَلُّوا فِيهَا " ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
ان سے ان باغات میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا جن میں پاخانہ ڈالا جاتا ہے، انہوں نے کہا: جب ان باغات کو کئی بار پانی سے سینچا گیا ہو تو ان میں نماز پڑھ لو۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔
