حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ " أَنَّ جَيْشًا مِنْ جُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ كَانَ أَمِيرَهُمْ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَاصَرُوا قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ ؟ قَالَ : دَعُونِي أَدْعُهُمْ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ ، فَأَتَاهُمْ سَلْمَانُ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ فَارِسِيٌّ ، تَرَوْنَ الْعَرَبَ يُطِيعُونَنِي ، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ ، فَلَكُمْ مِثْلُ الَّذِي لَنَا وَعَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْنَا ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا دِينَكُمْ ، تَرَكْنَاكُمْ عَلَيْهِ ، وَأَعْطُونَا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ ، قَالَ : وَرَطَنَ إِلَيْهِمْ بِالْفَارِسِيَّةِ : وَأَنْتُمْ غَيْرُ مَحْمُودِينَ ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ ، نَابَذْنَاكُمْ عَلَى سَوَاءٍ ، قَالُوا : مَا نَحْنُ بِالَّذِي نُعْطِي الْجِزْيَةَ ، وَلَكِنَّا نُقَاتِلُكُمْ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ ؟ قَالَ : لَا ، فَدَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَى مِثْلِ هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : انْهَدُوا إِلَيْهِمْ ، قَالَ : فَنَهَدْنَا إِلَيْهِمْ ، فَفَتَحْنَا ذَلِكَ الْقَصْرَ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَحَدِيثُ سَلْمَانَ ، حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : أَبُو الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ ، لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا ، وَسَلْمَانُ مَاتَ قَبْلَ عَلِيٍّ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا ، وَرَأَوْا أَنْ يُدْعَوْا قَبْلَ الْقِتَالِ ، وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : إِنْ تُقُدِّمَ إِلَيْهِمْ فِي الدَّعْوَةِ فَحَسَنٌ ، يَكُونُ ذَلِكَ أَهْيَبَ ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : لَا دَعْوَةَ الْيَوْمَ ، وقَالَ أَحْمَدُ : لَا أَعْرِفُ الْيَوْمَ أَحَدًا يُدْعَى ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ : لَا يُقَاتَلُ الْعَدُوُّ حَتَّى يُدْعَوْا ، إِلَّا أَنْ يَعْجَلُوا عَنْ ذَلِكَ ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ، فَقَدْ بَلَغَتْهُمُ الدَّعْوَةُ .
مسلمانوں کے ایک لشکر نے جس کے امیر سلمان فارسی تھے، فارس کے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا، لوگوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں؟، انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں ان کافروں کو اسلام کی دعوت اسی طرح دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں دعوت دیتے ہوئے سنا ہے ۱؎، چنانچہ سلمان فارسی رضی الله عنہ ان کے پاس گئے، اور کافروں سے کہا: میں تمہاری ہی قوم فارس کا رہنے والا ایک آدمی ہوں، تم دیکھ رہے ہو عرب میری اطاعت کرتے ہیں، اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمہارے لیے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے لیے ہیں، اور تمہارے اوپر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ہمارے اوپر ہیں، اور اگر تم اپنے دین ہی پر قائم رہنا چاہتے ہو تو ہم اسی پر تم کو چھوڑ دیں گے، اور تم ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرو ۲؎، سلمان فارسی رضی الله عنہ نے اس بات کو فارسی زبان میں بھی بیان کیا، اور یہ بھی کہا: تم قابل تعریف لوگ نہیں ہو، اور اگر تم نے انکار کیا تو ہم تم سے (حق پر) جنگ کریں گے، ان لوگوں نے جواب دیا: ہم وہ نہیں ہیں کہ جزیہ دیں، بلکہ تم سے جنگ کریں گے، مسلمانوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے تین دن تک اسی طرح ان کو اسلام کی دعوت دی، پھر مسلمانوں سے کہا: ان پر حملہ کرو، ہم لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور اس قلعہ کو فتح کر لیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَدَنِيُّ الْمَكِّيُّ وَيُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ هُوَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، عَنْ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ : " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا ، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا ، فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا " ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر یا سریہ بھیجتے تو ان سے فرماتے: ”جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو نہ مارو“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ ، أَتَاهَا لَيْلًا ، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ ، لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْهُ ، قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَافَقَ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " .
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر روانہ ہوئے تو وہاں رات کو پہنچے، اور آپ جب بھی کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہو جاتی اس پر حملہ نہیں کرتے ۱؎، پھر جب صبح ہو گئی تو یہود اپنے پھاوڑے اور ٹوکریوں کے ساتھ نکلے، جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہا: محمد ہیں، اللہ کی قسم، محمد لشکر کے ہمراہ آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر! خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں اس وقت ڈرائے گئے لوگوں کی صبح، بڑی بری ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ ، أَقَامَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْغَارَةِ بِاللَّيْلِ وَأَنْ يُبَيِّتُوا ، وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ ، وقَالَ أَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق : لَا بَأْسَ أَنْ يُبَيَّتَ الْعَدُوُّ لَيْلًا ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَافَقَ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ ، يَعْنِي بِهِ : الْجَيْشَ .
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم پر غالب آتے تو ان کے میدان میں تین دن تک قیام کرتے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ ، وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ سورة الحشر آية 5 " ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا ، وَلَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِقَطْعِ الْأَشْجَارِ وَتَخْرِيبِ الْحُصُونِ ، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ : وَنَهَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَنْ يَقْطَعَ شَجَرًا مُثْمِرًا ، أَوْ يُخَرِّبَ عَامِرًا ، وَعَمِلَ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَهُ ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ : لَا بَأْسَ بِالتَّحْرِيقِ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ وَقَطْعِ الْأَشْجَارِ وَالثِّمَارِ ، وقَالَ أَحْمَدُ : وَقَدْ تَكُونُ فِي مَوَاضِعَ لَا يَجِدُونَ مِنْهُ بُدًّا ، فَأَمَّا بِالْعَبَثِ ، فَلَا تُحَرَّقْ ، وقَالَ إِسْحَاق : التَّحْرِيقُ سُنَّةٌ إِذَا كَانَ أَنْكَى فِيهِمْ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلوا اور کٹوا دیئے ۱؎، یہ مقام بویرہ کا واقعہ ہے،اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها فبإذن الله وليخزي الفاسقين» ”(مسلمانو!)، (یہود بنی نضیر کے) کھجوروں کے درخت جو کاٹ ڈالے ہیں یا ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا اور اپنے تنوں پر ہی ان کو کھڑا چھوڑ دیا تو یہ سب اللہ کے حکم سے تھا اور اللہ عزوجل کو منظور تھا کہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے“ (الحشر: ۵)۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ : أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً ، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ " ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے انبیاء و رسل پر چھ چیزوں (خصلتوں) کے ذریعہ فضیلت بخشی گئی ہے، مجھے «جوامع الكلم» (جامع کلمات) عطا کئے گئے ہیں، رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے، میرے لیے تمام روئے زمین مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے، میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میرے ذریعہ انبیاء و رسل کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ أَخْضَرَ، نَحْوَهُ ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَالْأَوْزَاعِيِّ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، قَالُوا : لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ ، سَهْمٌ لَهُ ، وَسَهْمَانِ لِفَرَسِهِ ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ .
´اس سند سے بھی` ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، وَأَبُو عَمَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ ، وَلَا يُغْلَبُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ " ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا يُسْنِدُهُ كَبِيرُ أَحَدٍ غَيْرُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَقَدْ رَوَاهُ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنَزِيُّ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہترین ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو، اور سب سے بہتر سریہ وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور سب سے بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو اور بارہ ہزار اسلامی فوج قلت تعداد کے باعث مغلوب نہیں ہو گی“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ ، كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ ؟ " وَكَانَ يَغْزُو بِهِنَّ ، فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى ، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ ، وَأَمَّا بِسَهْمٍ ، فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ " ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأُمِّ عَطِيَّةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : يُسْهَمُ لِلْمَرْأَةِ وَالصَّبِيِّ ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ : " وَأَسْهَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصِّبْيَانِ بِخَيْبَرَ ، وَأَسْهَمَتْ أَئِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ لِكُلِّ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ " ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ : " وَأَسْهَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ بِخَيْبَرَ ، وَأَخَذَ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَهُ " ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، بِهَذَا ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ : وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ ، يَقُولُ : يُرْضَخُ لَهُنَّ بِشَيْءٍ مِنَ الْغَنِيمَةِ ، يُعْطَيْنَ شَيْئًا .
نجدہ بن عامر حروری نے ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس یہ سوال لکھ کر بھیجا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کرتے تھے؟ اور کیا آپ ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ بھی مقرر فرماتے تھے؟ ابن عباس رضی الله عنہما نے ان کو جواب میں لکھا: تم نے میرے پاس یہ سوال لکھا ہے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کرتے تھے؟ ہاں، آپ ان کے ہمراہ جہاد کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج کرتی تھیں اور مال غنیمت سے ان کو (بطور انعام) کچھ دیا جاتا تھا، رہ گئی حصہ کی بات تو آپ نے ان کے لیے حصہ نہیں مقرر کیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، قَالَ : " شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي ، فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَلَّمُوهُ أَنِّي مَمْلُوكٌ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِي ، فَقُلِّدْتُ السَّيْفَ ، فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ ، فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ ، فَأَمَرَنِي بِطَرْحِ بَعْضِهَا وَحَبْسِ بَعْضِهَا " ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، لَا يُسْهَمُ لِلْمَمْلُوكِ ، وَلَكِنْ يُرْضَخُ لَهُ بِشَيْءٍ ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق .
میں اپنے مالکان کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے سلسلے میں گفتگو کی اور آپ کو بتایا کہ میں غلام ہوں، چنانچہ آپ نے حکم دیا اور میرے جسم پر تلوار لٹکا دی گئی، میں (کوتاہ قامت ہونے اور تلوار کے بڑی ہونے کے سبب) اسے گھسیٹتا تھا، آپ نے میرے لیے مال غنیمت سے کچھ سامان دینے کا حکم دیا، میں نے آپ کے سامنے وہ دم، جھاڑ پھونک پیش کیا جس سے میں دیوانوں کو جھاڑ پھونک کرتا تھا، آپ نے مجھے اس کا کچھ حصہ چھوڑ دینے اور کچھ یاد رکھنے کا حکم دیا۔