جامع ترمذی حدیث ۳۱۲۱ - پل صراط اور قیامت کا منظر

پل صراط کا حدیث: قیامت کے دن لوگ کہاں ہوں گے؟

جامع ترمذیحدیث نمبر ۳۱۲۱

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ : " تَلَتْ عَائِشَةُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ سورة إبراهيم آية 48 ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ ؟ قَالَ : عَلَى الصِّرَاطِ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَائِشَةَ .

مسروق روایت:

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» ”جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے“ (ابراہیم: ۴۸)، پڑھ کر سوال کیا: اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” «على الصراط» پل صراط پر“۔

جامع ترمذی حدیث ۳۱۲۱ کا خلاصہ

یہ حدیث قیامت کے ایک بڑے منظر کو صاف الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے قرآن کی آیت پڑھی جس میں بتایا گیا ہے کہ اس دن زمین اور آسمان بدل دیے جائیں گے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ وہ پل صراط پر ہوں گے۔ اس حدیث کا اصل موضوع پل صراط، قیامت کا دن، اور آخرت کی حقیقت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قیامت صرف ایک عام دن نہیں ہوگا، بلکہ زمین و آسمان کی حالت بدل جائے گی۔ اس وقت انسان اپنی دنیاوی طاقت، مال، یا مقام کے بجائے اللہ کے فیصلے کے سامنے ہوگا۔ حدیث کا پیغام مختصر ہے، مگر بہت گہرا ہے: آخرت کی تیاری کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن زمین اور آسمان کی حالت بدل دی جائے گی۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اس وقت لوگ پل صراط پر ہوں گے۔
  • آخرت کے سوالات صحابہ رضی اللہ عنہم سنجیدگی سے پوچھتے تھے۔
  • یہ حدیث قیامت اور پل صراط پر ایمان کو یاد دلاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں