حیض کے احکام و مسائل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۴

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : خَرَجْنَا لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، قَالَ : مَا لَكِ ، أَنُفِسْتِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : "إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ " ، قَالَتْ : وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ . .

´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، کہا میں نے قاسم سے سنا۔ وہ کہتے تھے میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ آپ فرماتی تھیں کہ` ہم حج کے ارادہ سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی اور اس رنج میں رونے لگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں کیا ہو گیا۔ کیا حائضہ ہو گئی ہو۔ میں نے کہا، ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے تم بھی حج کے افعال پورے کر لو۔ البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ (سرف ایک مقام مکہ سے چھ سات میل کے فاصلہ پر ہے)۔

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ " .

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں خبر دی مالک نے ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو حائضہ ہونے کی حالت میں بھی کنگھا کیا کرتی تھی۔

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۶

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سُئِلَ أَتَخْدُمُنِي الْحَائِضُ أَوْ تَدْنُو مِنِّي الْمَرْأَةُ وَهِيَ جُنُبٌ ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ : كُلُّ ذَلِكَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ، وَكُلُّ ذَلِكَ تَخْدُمُنِي وَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ فِي ذَلِكَ بَأْسٌ ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَة " أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ تَعْنِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ مُجَاوِرٌ فِي الْمَسْجِدِ يُدْنِي لَهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا ، فَتُرَجِّلُهُ وَهِيَ حَائِضٌ " .

´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن جریج نے انہیں خبر دی، انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے عروہ کے واسطے سے بتایا کہ` ان سے سوال کیا گیا، کیا حائضہ بیوی میری خدمت کر سکتی ہے، یا ناپاکی کی حالت میں عورت مجھ سے نزدیک ہو سکتی ہے؟ عروہ نے فرمایا میرے نزدیک تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس طرح کہ عورتیں میری بھی خدمت کرتی ہیں اور اس میں کسی کے لیے بھی کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حائضہ ہونے کی حالت میں کنگھا کیا کرتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں معتکف ہوتے۔ آپ اپنا سر مبارک قریب کر دیتے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرہ ہی سے کنگھا کر دیتیں، حالانکہ وہ حائضہ ہوتیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں