حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنِي سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعٍ بِرِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَشَقِيٌّ، أَوْ سَعِيدٌ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ- أَوِ الرَّجُلَ- يَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا غَيْرُ بَاعٍ أَوْ ذِرَاعٍ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا غَيْرُ ذِرَاعٍ أَوْ ذِرَاعَيْنِ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فَيَدْخُلُهَا». قَالَ آدَمُ إِلاَّ ذِرَاعٌ.
ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان سنایا اور آپ سچوں کے سچے تھے اور آپ کی سچائی کی زبردست گواہی دی گئی۔ فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص پہلے اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے۔ پھر اتنی ہی مدت میں «علقة» یعنی خون کی پھٹکی (بستہ خون) بنتا ہے پھر اتنے ہی عرصہ میں «مضغة» (یعنی گوشت کا لوتھڑا) پھر چار ماہ بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اس کے بارے میں (ماں کے پیٹ ہی میں) چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کی روزی کا، اس کی موت کا، اس کا کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔پس واللہ، تم میں سے ایک شخص دوزخ والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ یا ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جنت والوں کے سے کام کرنے لگتا ہے اور جنت میں جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جنت والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں جاتا ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آدم بن ابی ایاس نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ جب ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَكَّلَ اللَّهُ بِالرَّحِمِ مَلَكًا ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ ، أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ ، أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا ، قَالَ : أَيْ رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ، فَمَا الرِّزْقُ ، فَمَا الْأَجَلُ ، فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ " .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر دیا ہے اور وہ کہتا رہتا ہے کہ اے رب! یہ «نطفة» قرار پایا ہے۔ اے رب! اب «علقة» یعنی جما ہوا خون بن گیا ہے۔ اے رب! اب «مضغة.» (گوشت کا لوتھڑا) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری کرے تو وہ پوچھتا ہے اے رب لڑکا ہے یا لڑکی؟ نیک ہے یا برا؟ اس کی روزی کیا ہو گی؟ اس کی موت کب ہو گی؟ اسی طرح یہ سب باتیں ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں، دنیا میں اسی کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُعْرَفُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ ، قَالَ : " كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ " .
ایک صاحب نے (یعنی خود انہوں نے) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جنت کے لوگ جہنمیوں میں سے پہچانے جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“ انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ وہ (بڑے ہو کر) کیا عمل کرتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ ، وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تُنْتِجُونَ الْبَهِيمَةَ ، هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت پر نہ پیدا ہوتا ہو۔ لیکن اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں جیسا کہ تمہارے جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ان میں کوئی کان کٹا پیدا ہوتا ہے؟ وہ تو تم ہی اس کا کان کاٹ دیتے ہو۔
قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهْوَ صَغِيرٌ قَالَ: «اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ».
صحابہ نے عرض کیا: پھر یا رسول اللہ! اس بچے کے متعلق کیا خیال ہے جو بچپن ہی میں مر گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ (بڑا ہو کر) کیا عمل کرتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ ، فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت اپنی کسی (دینی) بہن کی طلاق کا مطالبہ (شوہر سے) نہ کرے کہ اس کے گھر کو اپنے ہی لیے خاص کر لینا چاہے۔ بلکہ اسے نکاح (دوسری عورت کی موجودگی میں بھی) کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے مقدر میں ہو گا۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ رَسُولُ إِحْدَى بَنَاتِهِ ، وَعِنْدَهُ سَعْدٌ ، وأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، ومُعَاذٌ : أَنَّ ابْنَهَا يَجُودُ بِنَفْسِهِ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا : " لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى كُلٌّ بِأَجَلٍ ، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " .
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سے ایک کا بلاوا آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سعد، ابی بن کعب اور معاذ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ بلانے والے نے آ کر کہا کہ ان کا بچہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ) نزع کی حالت میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ اللہ ہی کا ہے جو وہ لیتا ہے، اس لیے وہ صبر کریں اور اللہ سے اجر کی امید رکھیں۔
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الجُمَحِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا وَنُحِبُّ الْمَالَ كَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ ، لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ " .
´ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم کو عبداللہ بن محیریز جمحی نے خبر دی، انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ` وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ انصار کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لونڈیوں سے ہمبستری کرتے ہیں اور مال سے محبت کرتے ہیں۔ آپ کا عزل کے بارے میں کیا خیال ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تم ایسا کرتے ہو، تمہارے لیے کچھ قباحت نہیں اگر تم ایسا نہ کرو، کیونکہ جس جان کی بھی پیدائش اللہ نے لکھ دی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔