صحیح بخاری حدیث ۱۰۵۱ - سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
نماز کسوف: سورج گرہن کے وقت نماز کا طریقہ
صحیح بخاری : ۱۰۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۵۱
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ قَالَ : " لَمَّا كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُودِيَ إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَرَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ، ثُمَّ جَلَسَ ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ " ، قَالَ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : مَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهَا .
عبداللہ بن عمرو روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو اعلان ہوا کہ نماز ہونے والی ہے (اس نماز میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے اور پھر دوسری رکعت میں بھی دو رکوع کئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے (قعدہ میں) یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا۔ عبداللہ نے کہا عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے اس سے زیادہ لمبا سجدہ اور کبھی نہیں کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کسوف یعنی سورج گرہن کی نماز کا طریقہ صاف انداز میں بیان ہوا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب سورج کو گرہن لگا تو اعلان کیا گیا کہ نماز ہونے والی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا گیا۔ اس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر دوسری رکعت میں بھی دو رکوع کیے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان بھی اسی حدیث میں آیا ہے کہ انہوں نے اس سے زیادہ لمبا سجدہ کبھی نہیں کیا۔ اس لیے یہ حدیث سورج گرہن کی نماز، لمبے رکوع، لمبے سجدے اور جماعت کے ساتھ نماز کے بارے میں براہ راست رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج گرہن کے وقت نماز کے لیے لوگوں کو جمع کیا گیا۔
- اس نماز میں ہر رکعت کے اندر دو رکوع کیے گئے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر سجدہ بہت لمبا کیا۔
- نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک بیٹھے رہے جب تک سورج صاف نہ ہو گیا۔
