صحیح بخاری حدیث ۱۰۵۲ - سورج گرہن کی نماز اور اللہ کا ذکر
سورج گرہن کی نماز: گرہن کو اللہ کی نشانی سمجھنے والی حدیث
صحیح بخاری : ۱۰۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۵۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَعْكَعْتَ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ عُنْقُودًا وَلَوْ أَصَبْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا ، وَأُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ مَنْظَرًا كَالْيَوْمِ قَطُّ أَفْظَعَ ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ، قَالُوا : بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : بِكُفْرِهِنَّ ، قِيلَ : يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ ، قَالَ : يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ اتنی دیر میں سورۃ البقرہ پڑھی جا سکتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع لمبا کیا اور اس کے بعد کھڑے ہوئے تو اب کی مرتبہ بھی قیام بہت لمبا تھا لیکن پہلے سے کچھ کم پھر ایک دوسرا لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے، سجدہ سے اٹھ کر پھر لمبا قیام کیا لیکن پہلے قیام کے مقابلے میں کم لمبا تھا پھر ایک لمبا رکوع کیا۔یہ رکوع بھی پہلے رکوع کے مقابلہ میں کم تھا رکوع سے سر اٹھا نے کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام بھی پہلے سے مختصر تھا۔ پھر (چوتھا) رکوع کیا یہ بھی بہت لمبا تھا لیکن پہلے سے کچھ کم۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اور کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا اس لیے جب تم کو معلوم ہو کہ گرہن لگ گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ (نماز میں) اپنی جگہ سے آپ کچھ آگے بڑھے اور پھر اس کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی اور اس کا یک خوشہ توڑنا چاہا تھا اگر میں اسے توڑ سکتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے اور مجھے جہنم بھی دکھائی گئی میں نے اس سے زیادہ بھیانک اور خوفناک منظر کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے دیکھا اس میں عورتیں زیادہ ہیں۔کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے کفر (انکار) کی وجہ سے، پوچھا گیا۔ کیا اللہ تعالیٰ کا کفر (انکار) کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شوہر کا اور احسان کا کفر کرتی ہیں۔ زندگی بھر تم کسی عورت کے ساتھ حسن سلوک کرو لیکن کبھی اگر کوئی خلاف مزاج بات آ گئی تو فوراً یہی کہے گی کہ میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سورج گرہن کی نماز یعنی نماز کسوف ہے۔ حدیث میں بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ اس نماز میں قیام، رکوع اور سجدہ سب لمبے تھے، مگر ہر اگلا قیام اور رکوع پہلے سے کچھ کم تھا۔ نماز مکمل ہوئی تو سورج صاف ہو چکا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن زدہ نہیں ہوتے۔ اس لیے جب گرہن دیکھا جائے تو اللہ کا ذکر کیا جائے۔ حدیث میں یہ بات بھی آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت اور جہنم دکھائی گئی۔ اس میں احسان کا انکار کرنے اور شوہر کی بھلائی کو بھلا دینے سے بچنے کی نصیحت بھی ہے۔ اس لیے گرہن کی حدیث ہمیں نماز، اللہ کے ذکر، شکر اور زبان کی احتیاط کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں سمجھنا چاہیے، انہیں کسی انسان کی موت یا زندگی سے جوڑنا درست نہیں۔
- گرہن کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی، اس لیے اس موقع پر عبادت اور اللہ کے ذکر کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف میں لمبا قیام، رکوع اور سجدہ کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وقت سنجیدگی اور خشوع کا ہے۔
- احسان کو بھلا دینا اور ایک غلطی پر ساری بھلائی کا انکار کر دینا ناپسندیدہ رویہ ہے۔
