صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۱ - نماز قصر اور سفر میں دو رکعت کی سنت
سفر میں دو رکعت نماز قصر کی واضح مثال
صحیح بخاری : ۱۰۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۸۱
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، قُلْتُ : أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا ؟ قَالَ : أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا " .
انس روایت:
ہم مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے تو برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو، دو رکعت پڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں کچھ دن قیام بھی رہا تھا؟ تو اس کا جواب انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ دس دن تک ہم وہاں ٹھہرے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب مدینہ سے مکہ کے سفر پر نکلے تو آپ مسلسل دو دو رکعت نماز ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ واپس مدینہ تشریف لائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں نماز قصر کرنا یعنی چار رکعت والی نماز کو دو رکعت پڑھنا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی مستقل سنت ہے۔ یہ عمل صرف مخصوص حالات تک محدود نہیں تھا بلکہ پورے سفر کے دوران جاری رہا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ مکہ میں آپ صلى الله عليه وسلم کا قیام تقریباً دس دن رہا، مگر اس دوران بھی آپ نے قصر نماز ہی ادا کی۔ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ سفر میں آسانی اور رخصت کا پہلو شریعت میں موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں نماز قصر کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی مستقل سنت ہے
- مشقت کے وقت اللہ نے عبادات میں آسانی رکھی ہے
- سفر کی حالت میں چار رکعت نماز دو رکعت پڑھی جا سکتی ہے
