صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۲ - منیٰ میں نماز قصر کا عمل
منیٰ میں دو رکعت نماز اور صحابہ کا عمل
صحیح بخاری : ۱۰۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۸۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت (یعنی چار رکعت والی نمازوں میں) قصر پڑھی۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان کے دور خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی تھیں۔ لیکن بعد میں آپ رضی اللہ عنہ نے پوری پڑھی تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ منیٰ میں چار رکعت والی نماز دو رکعت قصر کی صورت میں پڑھی۔ بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت کے آغاز میں بھی یہی عمل کیا لیکن بعد میں انہوں نے مکمل نماز ادا کی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ منیٰ میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا اصل طریقہ نماز قصر تھا۔ صحابہ کرام بھی اسی طریقے پر عمل کرتے رہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سفر اور حج کے دوران آسانی اختیار کرنا شریعت کا حصہ ہے اور اصل سنت نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- منیٰ میں نماز قصر نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت ہے
- صحابہ کرام نے بھی قصر نماز کو اپنایا
- سفر اور حج میں عبادات میں آسانی دی گئی ہے
