صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۳ - منیٰ میں امن کی حالت میں دو رکعت نماز
امن کی حالت میں بھی منیٰ میں قصر نماز
صحیح بخاری : ۱۰۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۸۳
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنَ مَا كَانَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ " .
وہب روایت:
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابواسحاق نے خبر دی، انہوں نے حارثہ سے سنا اور انہوں نے وہب رضی اللہ عنہ سے کہ` آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں امن کی حالت میں ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے منیٰ میں امن کی حالت میں بھی دو رکعت نماز پڑھائی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نماز قصر صرف خوف یا خطرے کی وجہ سے نہیں بلکہ سفر کی حالت میں ایک مستقل رخصت ہے۔ منیٰ میں جب حالات مکمل طور پر محفوظ تھے تب بھی نبی صلى الله عليه وسلم نے چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ہی ادا کیا۔ اس سے صحابہ کرام کو یہ عملی سبق ملا کہ سفر میں عبادت کو آسان انداز میں ادا کرنا ہی سنت ہے۔ یہ حدیث نماز کے بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے کہ سفر میں قصر ایک مستقل شرعی حکم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں قصر نماز امن میں بھی جائز ہے
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عملی طور پر قصر نماز سکھائی
- نماز میں آسانی شریعت کا حصہ ہے
