صحیح بخاری حدیث ۱۰۹۰ - نماز کی ابتدا اور سفر کی نماز کا حکم

نماز کی فرضیت اور سفر میں آسانی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۹۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتِ : " الصَّلَاةُ أَوَّلُ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ : مَا بَالُ عَائِشَةَ تُتِمُّ ، قَالَ : تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ .

عائشہ روایت:

پہلے نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی بعد میں سفر کی نماز تو اپنی اسی حالت پر رہ گئی البتہ حضر کی نماز پوری (چار رکعت) کر دی گئی۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ پھر خود عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیوں نماز پوری پڑھی تھی انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی جو تاویل کی تھی وہی انہوں نے بھی کی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۰۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ شروع میں نماز دو رکعت فرض کی گئی تھی۔ بعد میں حضر یعنی عام حالت کی نماز کو چار رکعت کر دیا گیا لیکن سفر کی نماز اپنی اصل حالت یعنی دو رکعت پر باقی رہی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر کی نماز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ اسے آسان ہی رکھا گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل کے بارے میں بھی سوال ہوا تو بتایا گیا کہ انہوں نے ایک مخصوص تاویل کے تحت ایسا کیا۔ یہ روایت نماز کے بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کی اصل ابتدا دو رکعت تھی
  • سفر کی نماز ہمیشہ دو رکعت رہی
  • عبادت میں اصل سنت کو سمجھنا ضروری ہے

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں