صحیح بخاری حدیث ۱۰۹۱ - سفر میں مغرب اور عشاء کو جمع کرنا
سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کی سہولت
صحیح بخاری : ۱۰۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۹۱
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ ، قَالَ سَالِمٌ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلُهُ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز دیر سے پڑھتے یہاں تک کہ مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی جب سفر میں جلدی ہوتی تو اس طرح کرتے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم سفر میں جلدی میں ہوتے تو مغرب کی نماز کو مؤخر کرتے اور پھر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی اجازت ہے تاکہ سفر کی مشقت آسان ہو جائے۔ جب انسان جلدی میں ہو یا سفر کا دباؤ ہو تو شریعت نے آسانی دی ہے کہ دو نمازیں ایک ساتھ پڑھی جا سکتی ہیں۔ یہ نبی صلى الله عليه وسلم کا عملی طریقہ تھا جسے صحابہ نے بھی اپنایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں نمازیں جمع کی جا سکتی ہیں
- مشقت میں شریعت آسانی دیتی ہے
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عملی طور پر جمع نماز سکھائی
