صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۹ - سفر میں نماز قصر اور ظہر دو رکعت
سفر کے آغاز میں نماز قصر کا عملی طریقہ
صحیح بخاری : ۱۰۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۸۹
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ الظُّهْرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ " .
انس بن مالک روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعت پڑھی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور پھر ذوالحلیفہ پہنچ کر عصر کی نماز دو رکعت پڑھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر شروع ہوتے ہی نماز قصر شروع ہو جاتی ہے۔ یعنی جب انسان سفر کی حالت میں داخل ہو جائے تو چار رکعت والی نماز کو دو رکعت کر دیا جاتا ہے۔ یہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا عملی طریقہ تھا جس سے صحابہ نے سیکھا کہ سفر میں عبادت آسان طریقے سے ادا کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر شروع ہوتے ہی نماز قصر شروع ہو جاتی ہے
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عملی طور پر قصر نماز سکھائی
- سفر میں عبادت آسان کر دی گئی ہے
