صحیح مسلم حدیث ۶۸۵ - اعتکاف میں حاجت
اعتکاف میں گھر جانے اور بیمار کا حال پوچھنے کا ادب
صحیح مسلم : ۶۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۵
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " إِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ ، فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ ، إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأُرَجِّلُهُ ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ ، إِلَّا لِحَاجَةٍ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا ، وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ : إِذَا كَانُوا مُعْتَكِفِينَ " .
عائشہ روایت:
میں (جب اعتکاف میں ہوتی) گھر میں جاتی حاجت کے واسطے اور چلتے چلتے جو کوئی گھر میں بیمار ہوتا اس کو بھی پوچھ لیتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں رہ کر اپنا سر میری طرف ڈال دیتے۔ میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں نہ جاتے مگر حاجت کے لئے جب اعتکاف میں ہوتے۔ ابن رمح نے کہا: جب کہ وہ سب اعتکاف میں ہوتے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں اعتکاف کے دوران ضرورت، گھر جانے اور بیمار کا حال پوچھنے کا انداز بیان ہوا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ حاجت کے لیے گھر جاتیں، اور اگر گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو چلتے چلتے اس کا حال پوچھ لیتیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اعتکاف میں بلا وجہ گھر میں بیٹھنا یا رکنا مقصود نہیں۔ پوچھنا بھی گزرتے ہوئے تھا، الگ سے رک کر لمبی ملاقات کا ذکر نہیں۔ اسی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں رہتے ہوئے اپنا سر ان کی طرف کر دیتے، وہ کنگھی کر دیتیں، اور آپ اعتکاف میں گھر نہ جاتے مگر حاجت کے لیے۔ یہ حدیث اعتکاف کے مسائل میں توازن سکھاتی ہے: ضرورت پوری ہو، مگر اعتکاف کی اصل حالت برقرار رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اعتکاف میں گھر جانا ضرورت تک محدود رکھا گیا۔
- بیمار کا حال پوچھنا گزرتے ہوئے بیان ہوا، ٹھہر کر ملاقات کا ذکر نہیں۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں مسجد ہی میں رہتے تھے۔
- اعتکاف میں کنگھی کا عمل روایت میں موجود ہے۔
