صحیح بخاری حدیث ۲۰۳۲ - مسجد الحرام میں اعتکاف کی نذر
نذر کی حدیث: مسجد الحرام میں اعتکاف پورا کرنا
صحیح بخاری : ۲۰۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۳۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، قَالَ : فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ " .
ابن عمر روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، میں نے جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ مسجد الحرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ انہوں نے جاہلیت میں مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کرو۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نذر اور اعتکاف ہے۔ روایت کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی پرانی نذر کے بارے میں پوچھا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پورا کرنے کا حکم دیا۔ یہاں نذر کی لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک خاص صورت بیان ہوئی ہے: مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کی نذر۔ اس لیے اس حدیث کو اسی خاص مسئلے کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ جو شخص نذر کی حدیث یا اعتکاف کی نذر کے بارے میں تلاش کرتا ہے، اسے اس روایت میں واضح جواب ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی کی نذر مانی ہو تو اسے پورا کرنے کا حکم دیا گیا۔
- عمرؓ کی نذر مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کی تھی۔
- دینی معاملے میں سوال کر کے رہنمائی لینا درست عمل ہے۔
