صحیح بخاری حدیث ۲۰۲۹ - معتکف بلا ضرورت گھر نہ آئے

اعتکاف کے آداب: بلا حاجت گھر میں داخل نہ ہونا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۲۹

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ ، إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے (اعتکاف کی حالت میں) سر مبارک میری طرف حجرہ کے اندر کر دیتے، اور میں اس میں کنگھا کر دیتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب معتکف ہوتے تو بلا حاجت گھر میں تشریف نہیں لاتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کا ایک واضح معمول بیان کرتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے اپنا سر حجرے کے اندر کر دیتے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اس میں کنگھی کر دیتیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا گیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے تو بلا حاجت گھر میں تشریف نہیں لاتے تھے۔ یہ حدیث اعتکاف کے آداب کو بہت سادہ انداز میں بتاتی ہے۔ اعتکاف کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر معمولی بات کے لیے مسجد چھوڑ دے، بلکہ ضرورت کے بغیر گھر میں داخل نہ ہونا اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی نظر آتا ہے کہ اعتکاف کے دوران ضروری اور ہلکے ذاتی کام ایک مناسب صورت میں ہو سکتے ہیں، جیسا کہ سر کی کنگھی کا ذکر آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • معتکف کو بلا حاجت گھر میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم اعتکاف میں مسجد ہی میں رہتے تھے۔
  • سر کی کنگھی جیسا کام مسجد سے سر حجرے کی طرف کر کے کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں